• صارفین کی تعداد :
  • 3246
  • 2/19/2015
  • تاريخ :

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ ہفتم)

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ ہفتم)

جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ آئینی تحریک کا آغاز تا جاری بادشاہوں کے ظلم کا نتیجہ تھا اور بعدازاں رضا شاہ کی آمریت ایران کی تاریخ کے صفحات پر نقش ہو گئی۔ جس نے غیر ملکی استعماری طاقتوں کی بے جا مداخلت کا راستہ ہموار کر دیا۔ طاقتور افراد اپنی عاقبت کے خوف سے بے نیاز حکومت کی پشیبانی سے لوگوں پر ظلم پہ مصروف تھے۔ پروین کسی کے رعب و دبدبے میں آئے بغیر عوام کی آواز بن گئے۔ جنھوں نے اہل ایران پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ اس عہد میں عوام الناس ظلم کی چکی میں پس رہے تھے۔ پروین کے قلم نے گویا ان میں تازہ روح پھونک دی۔ وہ اپنے وطن کے نچلے طبقات کی نمائندگی پھر پور انداز میں کرتی ہیں۔ پروین کی حقیقت پسندی کی بنیاد انسانیت اور انسان دوستی ہے۔ پروین بچوں اور مظلوموں سے محبت کرتی ہیں۔ اور پروین کا دل ان کی حالت زار پر کڑھتا ہے:
’’غربت کی سچی تصویر اور حکّام بالا کا ظلم و ستم، پروین کی شاعری میں نمایاں ہے۔ وہ حکومت سے قانونی جواز مانگتی ہیں۔ غربت اور ظلم ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں۔ سیاسی آزادی کے لیے آواز بلند کرنا انھی کا خاصا ہے۔ انھوں نے غیر معمولی جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے ظالم حکمرانوں سے بعض سوالات پوچھے ہیں۔‘‘ (۵)

روز شکار، پیرزنی ہا قباد گنت
کاز آتش فساد تو ، جز دود و آہ نیست

روزی بیا بہ کلبہ ی مااز رہ شکار
تحقیق حال گوشہ نیشنان گلناہ نیست

ھنگام چاشت ، سفرہ ی بی نان ما بین
تابنگری کہ نام و نشان از رفاہ نیست

لینگنی خراج ، بما عرضہ تنگ کرد
گندم تر است، حاصل ماغیر کاہ نیست

در دامن تو ، دیدہ چیز آلونگی تدیدبر
دیبھای روشن خویشت ، نگاہ نیست

حکم دروغ دادی و گفتی حقیقت اشت
کار تباہ کردی و گفتی تباہ نیست

پروین مکمل طور پر اس میدان میں وارد ہوتی ہیں۔ اور سادہ زبان و بیان میں لوگوں کے دکھ درد کو بیان کرتی ہیں۔ یہ کس قدر مشکل ہے کہ ایک شاعر یہ چاہے کہ وہ کلام کی مدد سے ایک مایوس اور مردہ دل قوم جس کے اپنے آپ کو بیگانوں نے تسلط میں دے رکھا ہو، انھیں مقابلہ کرنے اور اپنی آزادی کی راہیں تلاش کرنے کے لیے اُبھار سکیں۔ (۶)
وقت سخن سر مدّرس و بگو آنچہ گفتی است
شمسی روز معرکہ کہ زشت است در نیام
اجتماعی مضامین پروین کے اشعار کے رکن اصلی کو تشکیل دیتے ہیں۔ پروین اپنے تمام کلام میں ان تمام مسلمان عورتوں، جو ظلم و ستم کے خلاف فریاد کرتی ہیں، بیان کرتی ہیں:
دی کود کی بہ دامن مادر گرسیت زار
اکز کو دکان کو یِ بہ من کسی نظر نداش

اطفال را بہ صحبت من از چہ میل نیست
تو رک مگر نبود کسی کا و پدر نداشت

جز من میان این گل و باران کسی نبود
کو موزہ ای بدپا و کلاھی سر نداشت

آخر تفاوت من و طفلان شھر چیست
آیسین کود کی رہ و رسم دگر نداشت

ھرگز دون مطبخ ماھیز می نسوخت
وین شمع روشنایی از این بیشتر نداشت

ھمسایگان ما برہ و مرغ می خورند
کس جز من و توقوت زخون جگر نداشت

برومل ھای پیر و ھنم خندہ میکند
دنیا ر و در ھمی پدر من مگر نداشت

خندید و گفت آن کہ بہ فقر تو طعنہ ترا
از دانہ ھای گوھر اشکت خبر نداشت

از زندگانی پدر خود میپرس از آنک
چیزی بہ غیر تیشہ و داس و تیر نداشت

بس رنج برد و کس نشمردش بنہ ھیچ کس
گمنام زیست آنکہ وہ وسیم و زر نداشت

نساح روزگار در این پھن بارگاہ
از بھر ماقماشی از این خوبتر مداخت
ظلم و ستم کے خلاف جنگ کرنے اور حکومت کے قانونی ہونے کے باہر میں پروین نے جو اشعار کہے۔ اس کی اہمیت چند ان ہو جاتی ہے کہ ہم چہ جانیں کہ یہ اشعار کن ادوار میں کہے ہیں۔ یہ بات دوست ہے کہ رضا شاہ ڈکٹیٹر کی حکومت کے زمانے میں حکومت کی سختیوں بہ دہشت نے لوگوں کو اظہار رائے سے روک رکھا تھا۔ پروین آزادانہ طور پر حکومت کے ظالمانہ اقدام کے خلاف اظہار رائے کرتی ہیں:
آن سفلہ ای کہ مفتی و قاضی است نام او
تاپو دو تار جامہ ھاش از رشوہ و ریاست
اگرچہ کچھ مواقع پر انھوں نے علامتی زبان استعمال کی ہے کہ کہیں سے کسی کو ملزم نہ کہنا پردے اور کسی کو دل آزادی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ لیکن ان کا سیاسی کلام اپنے ہمعصروں سے زیادہ بھ باک اور بازی لے جانے والا ہے۔
لتھاد کوک خردیِ یہ سرزگل تاجی
بہ خندہ گفت شھان راچنین کلاھی نیست

برو گذشت حکیمی و گفت کایی فرزند
مبرھن است کہ تمثل تو یاد شاھی نیست

ھنوز روح رو ز آلائیں بدن پاکستا
ھنوز قلب تو رانیست تباھی بنت

تراہیں است ھمین برتری کہ بردر تو
ہساط ظلمی و فریاد داد خواھی نیست

تو مال خلق خدا را انکردہ ای تاراخ
غذا و آتشت از خون واشک و آھی زیست

تو را فرشتہ بود رھمنون و شاہان را
ایہ غیر اھدر من نفس پیر راھیِ نیست

طلاخد او طمع مسلک و طریقت شر
جز آستانہ پندار سجدہ گاھی نیست

قنات مال یتیم استاد باغ ملک متغیر
تمام حاصل ظلم است مال و جاھیِ نیست

شھود محکمہ یِ پادشاہ دیوانند
ولیِ بہ محضر تو غیر حق گواھی نیست

(جاری ہے)


متعلقہ تحریریں:

پروین اعتصامی کی بیماری اور موت

پروين اعتصامي