• صارفین کی تعداد :
  • 3105
  • 2/19/2015
  • تاريخ :

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ ششم)

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ ششم)

پروین کی شاعری میں بالعموم جگہ کا تعین کر دیا گیا ہے۔ رومانوی شعرا کے برعکس وہ دور دراز اور عجیب و غریب مقامات کا رخ نہیں کرتیں بلکہ حقیقت پسندانہ اور سچے ادیب کی طرح اُسی ماحول کا ذکر کرتی ہیں جس میں خود انھوں نے زندگی بسر کی۔ زمان و مکان کا یہ تصور دن اور رات، باغ و بوستان، سڑک و خیابان یا تنگ و تاریک غار میں لے جاتا ہے۔
گفت یا مید قفس ، مرغ چمن
کہ گل و میوہ ، خوش و تازہ رس است
بگشای این قفس و بیرون آی
کہ نہ در باغ و نہ در میزہ ، کس است

گفت باز نجیر ، در زندان شبی دیوانہ ای
عاقلان پیداست ، کز دیوا نگان ترسیدہ اند

اینچنین تواندم کہ روزی رو لبھی
پابند تلہ گشت اندر رھی

بر سر راھی ، گداپی تیرہ روز
نالہ ھا می کرد با صد آہ و سوز
نالہ ھامی کرد با صد آہ و سوز

یہ غاری تیرہ ، درویشی دمی خفت
در آن خفتن ، بہ او گنجی چینین گفت

ان کی شاعری میں بعض غیر متوقع مقامات دکھائی دیتے ہیں۔ اسی طرح ان کے ہاں تجسیم کے بعض ایسے نمونے بھی ملتے ہیں۔ جو شاید ہی کسی اور شاری کے ہاں دکھائی دیں۔ اپنے اخلاقی پیغام کے ابلاغ کے لیے پروین کو کسی دیومالائی شخصیت کی ضرورت نہیں ہے جو ان کی شاعری میں ہیرو کی طرح مسائل کو حل کر سکے۔ ان کے ہاں نہ تو فردوسی کا رستم دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی نظامی گجوی کی لیلیٰ و مجنون کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ بلکہ وہ روز مرہ کی زندگی کے واقعات کو پیش کرنے کے لیے حقیقت پسندی کی طرف مائل ہوتی ہیں۔ اور سادہ مسائل کو ظاہر کرنے کے لیے ہماری زندگی ہی سے مثالیں تلاش کرتی ہیں۔ البتہ قدرتی حقیقت، ادبی حقیقت سے مختلف ہوتی ہے۔ قدرت حقیقب کو براہِ راست بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بنا پر پروین اپنی پسندیدہ حقیقت کے ابلاغ کے لیے عام زندگی سے مثالیں تلاش کرتی ہیں۔ اور معمول کی داستانوں میں پند و نصائح کا اسلوب اپناتی ہے۔ ان کی شاعری میں مذکور شخصیات ہمیشہ آئیڈیل نہیں ہوتیں۔ بلکہ پروین ان کے علامت کا کام لیتی ہیں۔ بچہ اور بوڑھا، مزدور اور قاضی، بادشاہ اور فقیر سبھی ان کی شاعری میں اپنے اپنے طبقات کی نمائندگی کرتے ہیں۔
پروین کی شاعری میں بڑھیا کا کردار بالعموم ایک ستم کشیدہ اور ستم دیدہ عورت کا ہے جو بادشاہوں اور وزیروں کے ظلم سے نالاں ہے۔ جبکہ ان کے ہاں بچے معصوم ہیں اور معاشرتی ظلم کا شکار ہیں۔ البتہ نھیں حقائق کا ادراک نہیں۔
روزی گذشت یا دسھی از گذر گھی
فریاد شوق بر سر ھر کوی و بام خاست

پر سید زان میان یکی تو دک یتیم
کاین تابناک حیثیت کہ برتاج پارشاست

نزدیک رفت پیر زنی گور پشت و گفت
این اشک دیدہ ی من و خون دل شحاست
ایک اور نظم میں وہ ایک مصوم بچے کا حال سناتی ہیں جو معاشرے کے معصوم اور بے خبر افراد کا نمائندہ ہے:
کود کی در بر ، قبائی سرخ داشت
روزگاری زان خوشی خوشی میگذاشت

روزی ، آن رھیوی صافی اندرون
وقت بازی شد ز تلی واڑگون

جامہ اس از خار و سر از سنگ خست
این یکی یکسر درید ، آن یک شکست

طفل مسکین ، بی خبر از سر کہ چیست
یار گیھا ی قبا دید دگرسیت

از سرش گرجہ ہی خوناب ریخت
امبر ای جامہ از چشم آب ریخت

گر بچشم دل بیتم ای رفیق
ھمچو آن طفلیم مادر این طریق

جامہ ی رنگین ما آز و ھوی است
ھرچہ برما میر سد از آز ساست

درھوس افزون و درعقل اند کیم
سالھا داریم اما کودکیم

جان رھا تردیم و در فکر تنیم
تن بسرد و درغم پیر اھنیم

(جاری ہے)


متعلقہ تحریریں:

پروین اعتصامی کی بیماری اور موت

پروين اعتصامي