• صارفین کی تعداد :
  • 3036
  • 2/18/2015
  • تاريخ :

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ پنجم)

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ پنجم)

 پروین بظاہر تو ایک واقعہ یا کہانی بیان کرتی ہیں لیکن داستان کے آخر میں پتہ چلتا ہے کہ دراصل شاعرہ اپنے نظریات و خیالات کو پروان چڑھا رہی ہیں۔ ان کے ضمیر کی آواز خارجی واقعات اور داخلی نظریات کو یکجا کر دیتی ہے۔ البتہ موضوعات کی قدرت اور زبان کی سادگی قاری کو مسحور کر دیتی ہے۔ ارسطو نے بھی اپنے ادبی نظریے میں شاعرانہ تقلید کے مختلف پہلو بیان کیے ہیں۔ (۳): ’’شاعر اگرچہ یکساں موضوعات کو بیان کرتا ہے لیکن
۱۔ کبھی وہ ایک روایت بیان کرتا ہے اور کبھی کسی اور کردار کی زبان سے کوئی دوسرا وہم نکتہ کہہ ڈالتا ہے جیسا کہ ہمیں ھومر کے ہاں دکھائی دیتا ہے یا
۲۔ ان دو اسالیب میں سے بغیر کسی تبدیلی کے ایک اسلوب کو اپنا لیتا ہے یا
۳۔ مختلف شخصیات کو مقلدین کے روپ میں ڈرامے کا حصہ بنا دیتا ہے۔ گویا وہ شخصیات اپنی امور کی انجام دہی میں مشغول ہوتی ہیں جن کا ان سے تقاضا کیا جاتا ہے۔
پروین نے انھی اسالیب سے استفادہ کیا ہے اور اپنے افکار کے اظہار کے لیے مختلف کرداوں سے استفادہ کرتی ہے۔
لالہ ای بانرگس پژمردہ گفت

بین کہ مارخسارہ چون افروختیم

گفت مانیز آن متع بی بدل

شب خریدیم و سحر بفرو خیتم

آسمان ، روزی بیاموزد کرا

نکتہ ھای را کہ ما آموختیم

خرمی کردیم وقتی خُرمی

چون زمان سوختن شد سوختیم

تاسفر کردیم بر مُلک وجود

توشہ پژمردگی اندوختیم

درزی ایام زان رہ می شکافت

آنچہ رازین راہ ، مامی دو ختیم
جب شاعریوں کردار سازی کرے تو پھر اُسے خاص اسلوب و زبان کو بھی اپنانا پڑتا ہے۔ (۴) لہٰذا پروین نے بھی خلاقیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے کلام میں جہاں بینی کا راستہ اپنایا ہے۔ ان کی استارانہ مہارت سارے دیوان میں پوری طرح دکھاتی دیت ہے۔ بعض اوقات غیر مروّجہ موجودات کی زبان سے بھی مناظر سے پڑھنے کو ملتے ہیں:
گفت سوزن بار فو گروقت شام
شب شد و آخر نشد کارت تمام

شمہدپ اہ لپ روزہ وپ چشمہ خورشید
پرفت ذرہ بہ شوقی فزون بہ مھمانی

بہ کنج مطبخ تاریک ، تابہ گفت بہ دیگ
کہ از ملا نمردی ، چہ خیرہ سربودی

پروین کی شاعری میں بالعموم ماضی قریب کا ذکر ملتا ہے۔ وہ فعل حال اور نزدیک کے گزرے ہوئے زمانے کی بات کرتی ہیں۔ البتہ ان کے ہاں کلاسیکی شعرا کی سی بلند آہنگی مفقود ہے اور کسی تاریخ نویسی کی طرح ماضی قریب میں وقوع پذیر ہونے والے واقعات کا ذکر کرتی ہیں۔ جس میں ان کی مخصوص حسرت آمیز تلخی نمایاں ہوتی ہے۔
گذشتہ ی بی حاصل
کاشکی ، وقت راشتاب نبود

فصل رحلت در این کتاب نبود

کاش ، در بحر بیکراں جھان

نام طوفان و انقلاب نبود

مرغکان میپر اند این گنجشک

گر کہ ھمسایۂ عقاب نبود

ماندیدیم و راہ کج رفیتم

ورنہ در راہ ، پیچ و تاب نبود

انیکہ خو اندیم شمع ، نورداشت

اینکہ در کوزہ بود ، آپ نبود

ھر چہ کردیم ماہ و سال ، حساب

کار ایام را حساب نبود

غیر مردار ، طعمہ ای شناخت

طوطی چرخ ، جز غراب نبود

رہ دل زد زمانہ ، این دزدی

ھمچو دزدیدن ثباب نبود

چوتھی گشت ، پرنشر دیگر

خم ھستی ، خم شراب ہنود

خانۂ خود ، بہ اھرمن منمای

پرستش دیو را جواب بنود

دورۂ پیرت ، حیرات سیاہ

مگرت دورۂ شباب نبود

بس گشت آسیای دھر ، ولیک

ھیچ گندم در آسیاب نبود

نکشید آب ، دلوما زین چاہ

زلنکہ در دست ماطناب نبود
گرنمی بود شیشۂ پندار

ملک معمور دل ، خراب نبود
زین منہ ، اسب آز رابرہیئت

پای نیکان ، درین رکاب نبود
تو ، فریب سراب تن خوردی

در بیابان جان سراب نبود
زآتش جھل ، سوخت خرمن ما

گنہ برق و آفتاب سود
سال و مہ رفت و ماھمی خفیتم

خواب ما مرگ بود ، خواب ہنود
(جاری ہے)


متعلقہ تحریریں:

پروين اعتصامي کي بيماري اور موت

پروين اعتصامي