• صارفین کی تعداد :
  • 3063
  • 2/18/2015
  • تاريخ :

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ چہارم)

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری(حصہ چہارم)

پروین نے جس عہد میں زندگی گزاری وہ افراتفری کا زمانہ تھا۔ لوگ خود غرض بادشاہوں کے ظلم و ستم سے تنگ آ چکے تھے۔ آئینی تحریک ایران میں جاگیردارانہ نظام سے نجات کی علامت تھی کہ عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کیے جا سکیں۔ لیکن اس تحریک کا حاصل شکست، ناامیدی اور مایوسی کے سوا کچھ نہ تھا۔ اہل ایران آرزوں کے ساحل پر حسرت کی ریت پھانکتے رہ گئے۔ رضا شاہ کے اقتدار سنبھالنے کے بعد پہلوی آمریت کا آغاز ہوگیا۔ ترقی پسند ایرانی شاعروں پر اظہار رائے کی پابندی لگ گئی۔ اسی عہد میں شاہی فرحان پر فرخی یزدی کے ہونٹ سی دیے گئے۔ تاکہ کوئی بھی شاعر آنے والے روشن کل کی تصویر پر نہ دکھا سکے:
شرح این قصہ شنو از دو لب دوختہ ام
تا لبوزد دلت از بھر دل سوختہ ام
میر زادہ عشقی کو خود اس کے گھر میں گولی مار دی گئی تاکہ کوئی بھی ایرانی قوم کے دکھوں کی نمائندگی نہ کر سکے۔ ایرج مرا کے نیش دار قلم کو بھی توڑ دیا گیا تاکہ وہ اپنی طنزیہ شاعری میں حقائق سے پردہ نہ اٹھا پائے۔ یہی وہ دور تھا جب کلاسیکی اسلوب میں شعر کہنے والی شاعرہ پروین اعتصامی کا دل اپنی قوم کے درد سے لبریز تھا۔ وہ اس کانٹوں بھرے راستے پر قدم رکھتی ہیں اور تن تنہا ذمہ داری کا بوجھ اپنے کنھدوں پر اٹھا لیتی ہیں۔ ایرانی ادب کی تاریخ میں کسی بھی خاتون کا موازنہ پروین سے نہیں کیا جا سکتا۔ اسی بنا پر پروین کی اخلاقی آموز نظمیں قاری ادب کے آسمان پر آج تک ستاروں کی طرح روشن ہیں۔ اور ان کی شاعری بعد میں آنے والی خواتین شعرا کے لیے چراغ ہدایت ہے۔ ایک یتیم بچے کا خوف کہ جس کے پاس رات کا کھانا نہیں ہے یا ایک ناتواں بڑھیا کی حسرت جب وہ حاکم وقت سے انصاف طلب کرتی ہے، جیسے واقعات پروین کے دیوان میں جگہ جگہ دکھاتی دیتے ہیں۔ پروین دیگر شعرا کی طرح عشق مجازی جیسے پیش یا افتادہ اور تکراری موضوعات کی طرف متوجہ نہیں ہوتیں۔ ان کے دیوان میں غیر حقیقی قصے اور کہانیاں موجود نہیں ہیں۔ بلکہ وہ معاشرتی حقائق کا مشاہدہ کھلی آنکھوں سے کرتی ہیں۔ اور خوب غور و فکر کے بعد ان کی نشاندہی بھی کرتی ہیں۔ وہ اپنی صلاحیت اور استعداد کو لوگوں کی فلاح کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہیں۔ وہ کبھی اپنے آپ کو عوام الناس سے الگ خیال نہیں کرتیں۔ اسی بنا پر پروین کا دیوان آج بھی مقبول ہے اور کثرت سے شائع ہوتا ہے۔
حقیقت پسندی کا اسلوب مشاہدات کو بنیاد بناتا ہے۔ پروین نے بھی شعر کہتے ہوئے اپنے ذاتی جذبات و احساسات کو غالب نہیں آنے دیا۔ اگرچہ کوئی بھی شاعر یا ادیب اپنے آثار میں ذاتی نظریات اور احساسات کو مکمل طور پر نظر انداز نہیں کر سکتا۔ اسی بنا پر ہم دیکھتے ہیں کہ پروین کی شاعری میں اس کا مخصوص انداز بیان اور منفرد نظریات اس کی شاعری کو منفرد بناتے ہیں۔ مندرجہ ذیل اشعار میں واحد غائب کی زبان سے داستان کا آغاز کرتی ہیں۔ تاکہ قاری خود کو اس بیان اور گفتگو کا حصہ تصور کرتے۔
پیام داد سگ گلہ راشبی گرگی

کہ صبحدم برہ بمفرست ، میھمان دارم
(گرگ و سگ)

 

باغبانی ، قطرہ ای بربرگ گل

دید و گفت این چھرہ جای اشک نیست
(گہ یہ ی بی سود)


قاضیِ کشمیر زمنحصر ، شامگاہ

رفت سوی خانہ با حالی تباہ
(دو محضر)


نارونی بعد بہ ہندوستان

زاغچہ ای داست در آن آشیان


خاطر من از بندگی آزاد بود

جایگھشن ایمن و آباد بود
(شوق برابری)

ان اشعار میں پروین نے انتہائی مہارت کے ساتھ داستان کا آغاز واحد آئب کی زبان سے کیا ہے۔ یہ اسلوب قاری کے ذہن کو داستان کا حصہ بنا دیتا ہے۔ (جاری ہے)


متعلقہ تحریریں:

پروین اعتصامی کی بیماری اور موت

پروين اعتصامي