• صارفین کی تعداد :
  • 3066
  • 2/15/2015
  • تاريخ :

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری

پروین اعتصامی کی شاعری میں حقیقت نگری اور تاریخ نگاری

حقیقت پسندی کا اطلاق ان واقعاتی تحریروں اور حقائق پر مبنی ادب پر ہوتا ہے جن کی طرف رومانویت پسند توجہ نہیں دیتے یا اُسے مسخ کرکے پیش کرتے ہیں۔ (۱) مزید برآں حقیقت نگاری میں وہم، تخیل، خواب، افسانہ اور عشق مجازی جیسے موضوعات زیر بحث نہیں آتے جبکہ ادیب والہانہ انداز میں حقائق کی ترجمانی اور تحریر و تجزیہ کرتا دکھائی دیتا ہے جن کا وہ اپنے معاشرے میں بہ نظر غائر مشاہدہ کر چکا ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ ادبی اسلوب ۱۸۴۳ء میں سامنے آیا جس کا سہرا شاننلوری کے سر بنتا ہے۔ اور اس الوب کی بنیاد وہ معاشرتی و سماجی حالات تھے جو ۱۹ ویں صدی میں مغربی دنیا میں وقوع پذیر ہو رہے تھے۔ ادباء ایسے آثار تخلیق کرنا چاہتے تھے جن کی مدد سے معاشرتی نظام تبدیل کیا جا سکے۔ چنوکہ ان کا خیال تھا کہ طبقہ اشرافیہ کے ہاتھ میں دولت و اقتدار کا ارتکاز، معاشرے کے دیگر طبقات کے لیے نزدگی کو مشکل بنانے کا سب بنا ہے۔ گویا اس صورتحال میں ادیب ایک تاریخ نویس کا درجہ حاصل کر لیتا ہے جو اپنے قارئین دقیق معلومات کی فراہمی کے لیے معاشرے کے تخلق حقائق سے رجوع کرتا ہے تاکہ ان کی بنیاد پر اپنے موقف کی وضاحت اور اس کا دفاع کر سکے۔ ۱۸۸۷ء میں موسپاں نے اس اسلوب کی ایک اور انداز میں تعریف بیان کی: ’’معاصر انسانوں کی حقیقت کا ادراک اور ابلاغ‘‘۔ اس تعریف کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ ادیب یا شاعر تخیلاتی دنیا تخلیق نہیں کرتے اور ان کی تحریروں میں افسانوی عشق بھی نہیں پایا جاتا بلکہ وہ روز مرہ زندگی کے مشاہدات کے بیان کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس ہدف کے حصول کے لیے شاعر دنیاے علم و معرفت کا رُخ کرتے ہوئے حقیقت تک رسائی حاصل کرتا ہے۔ اور نور معرفت کو جہالت کی تاریکی سے نجات کا واحد ذریعہ سمجھتا ہے۔ اسی بنا پر وہ اخلاقی مضامین اور لوگوں کے خصائل کا ذکر ان کی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ کرتا دکھائی دیتا ہے اور یوں وہ اپنے عہد کے لوگوں کے اخلاق و کردار کا مورخ بن جاتا ہے۔ البتہ بدگمانی کی تلخی ہی حقیقت پسندانہ تحریروں کی اصل چاشنی ہے۔ جو بڑے بڑے تصورات کے زائل ہونے سے حاصل ہوتی ہے۔ انان کہتا ہے کہ ’حقیقت دردناک ہے‘‘ اور نطشے حقیقت کو مرگبار سمجھتا ہے۔ غالباً اسی بنا پر حقیقت پسند ایرانی ادیبوں کے آچار میں مایوسی اور ناامیدی نمایاں ہیں۔
ایران میں مظفر الدین شاہ کے زمانہ اقتدار میں پہلی بار حکومتی ظلم کے خلاف تحریک کھڑی ہوتی جسے آئینی تحریک کا نام دیا گیا۔ آئینی تحریک کا نام دیا گیا ۔ آئینی تحریک چلانے والوں میں وہ روشنفکر اور ترقی پسند ادباء آگے آگے تھے جو ظالمانہ شاہی نظام کو جمہوری قانونی اور آئینی حکومت سے بدلنے کے خواہاں تھے۔ بالآخر اس تحریک کے نتیجے میں ۱۹۰۶ء میں مظفرالدین شاہ نے آئینی دستاویز پر دستخط ثبت کیے اور یوں قومی مجلس شوریٰ قائم ہو گئی۔ لیکن زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا کہ بعد میں آنے والے بادشاہ یعنی محمد علی شاہ نے مجلس کے خاتمے کا اعلان کر دیا اور یوں آئینی تحریک چلانے والوں کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس دوران تحریک آزادی کے علمبردار بڑی تعداد میں گرفتار ہوئے یا انھیں موت کے گھاٹ اتار دیا گیا یا انھیں جلاوطنی کا تنا پڑی۔ اس عوامی تحریک کو کچلنے کے نتیجے میں ایران کے سیاسی حالات سنگینی اختیار کر گئے۔اور یوں ترقی پسندوں کی دوسری نسل کو ناامیدی اور مایوسی گویا ورثہ میں ملی۔ البتہ یہ بھی حقیقت ہے کہ آئینی تحریک کے نتیجے میں ایران کی سیاسی و معاشرتی ثقافت یکسر تبدیل ہو گئی۔ سیاسی قائدین قاجاری آمریت سے نجات اور اصول آزادی کے لیے منتخب ہو گئے۔ البتہ یہ ہدف عوام الناس کے تعاون اور ان کی مدد کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ بنا برایں عوام کی روح کو بدلنے کے لیے ان کے لیے ان کی زبان اور معاشرتی سے ہم آہنگی ضروری تھی تاکہ ان کے میلانات کو بہتر انداز سے سمجھ سکیں۔ عوام میں سیاسی سوچ کی تبدیلی اور کام اعتقادات کے خاتمے کے لیے روشفکر ادیبوں نے نئے سیاسی رجحانات کی داغ بیل ڈالی۔ اس راستے کا پہلا قدم عام لوگوں کے شانہ بہ شانہ ہوتا تھا۔ چونکہ اس سے قبل صدیوں تک تخلیق ہونے والا ادب عوام سے کہیں زیادہ فاصلہ برقرار رکھے ہوئے تھا۔ پس عوام الناس سے قربت کے لیے ضروری تھا کہ ان کی زبان میں ادبی آثار تخلیق کیے جائیں۔


متعلقہ تحریریں:

 پروين اعتصامي

پروین اعتصامی ایک عظیم شاعرہ