• صارفین کی تعداد :
  • 4229
  • 2/7/2015
  • تاريخ :

لڑائی کی اصلی وجہ

طلاق کے بعد بچوں کو اپنے باہمي اختلافات سے دور رکھيں

مردوں  اور عورتیں کو جب ماحول اچھا ملتا ہے اور خود کو بہتر محسوس کر رہے ہوتے ہیں تب وہ اپنے جیون ساتھی سے کسی بھی بات پر اعتراض نہیں کرتے ہیں ۔ میاں بیوی کے درمیان مسائل اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب وہ ذہنی طور پر تناو کا شکار ہوتے ہیں ۔
زندگی کے راستے پر اتار چڑھاو آتے  رہتے ہیں ۔ بلندی اور پستی ہمیشہ رہتی ہے ۔  ہر  عاقل انسان کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے جیون ساتھی کے ساتھ محبت سے پیش آۓ اور اسی طرح کی اپنے ساتھی سے بھی توقع کی جاتی ہے ۔ بعض اوقات نامعلوم وجوھات کی بنا پر گھریلو ماحول میں تناو پیدا ہو جاتا ہے اور ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی تک نوبت آ جاتی ہے ۔ ایسے حالات میں گھریلو ماحول بہت زیادہ خراب ہو جاتا ہے ۔
ازدواجی زندگی کو بڑی محبت اور سکون کے ساتھ گزارنا چاہیۓ اور کبھی کبھار اگر میاں بیوی کے درمیان حالات تلخ ہو بھی جائیں تو کوشش کرنی چاہیۓ کہ زندگی گزارنے کے وہ گر اور مہارات ہمارے پاس ہوں  جس سے ہم ایسے حالات کو کنٹرول کر سکیں ۔ اس طرح کی مشکلات میں اصل ہاتھ پریشانی کا ہوتا ہے ۔ میاں بیوی میں سے کوئی ایک نہایت ڈپریشن کی حالت میں ہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ مدمقابل کی چھوٹی سی غلطی کو بھی برداشت نہیں کر پاتا اور یوں  گھریلو ماحول میں تناو آ جاتا ہے ۔ اگر ہم اپنے ذہن میں یہ چیز بٹھا لیں کہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوں تو اپنی تمام پریشانیوں اور ڈپریشن کو دور کرکے یا اس پر قابو پا کر گھر میں  قدم رکھنا ہے تو ایسے حالات میں بہت سارے مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے ۔ بیوی کو بھی چاہیۓ کہ وہ اپنے خاوند کا خندہ پیشانی کے ساتھ استقبال کرے ۔
جیون ساتھی کے خیالات اور خواہشات کو اہمیت دیں ۔ اس کی پسند و ناپسند کا خیال رکھیں اور  اسے خوش کرنے کے لیۓ اگر اپنی خواہشات کی قربانی بھی دینی پڑے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے ۔ ایسے حالات میں دونوں کی یہ کوشش ہونی چاہیۓ کہ چادر دیکھ کر ہی پاوں پھیلائیں ۔ ( جاری  ہے )


متعلقہ تحریریں:

افسردہ جيون ساتھي

ذہن پر قابو ہي سکون کا وسيلہ ہے