• صارفین کی تعداد :
  • 1727
  • 1/26/2015
  • تاريخ :

فرانس کي دوغلي پاليسي

فرانس کی دوغلی پالیسی

فرانس کے حکام کي جانب سے تمام اديان منجملہ اسلام کا احترام کرنے کے دعووں کے باوجود اس ملک ميں اسلام کے خلاف ہفت روزہ جريدے چارلي ايبڈو کي جانب سے توہين آميز اقدامات کا سلسلہ جاري ہے- فرانس کي حکومت نے آزادي اظہار کے بہانے ہفت روزہ جريدے چارلي ايبڈو کو توہين آميز خاکے شائع کرنے کي اجازت دي اور يہ اس قسم کا اقدام ہے کہ جس سے يہ سوال سامنے آتا ہے کہ کيا پيغمبر اسلام (ص) کي مسلسل توہين، اسلام کے پيروکاروں کے حقوق کا احترام ہے؟!

کيا اس قسم کے توہين آميز اقدامات سے دنيا کے ڈيڑہ ارب سے زائد مسلمانوں کي دل آزاري نہيں ہوئي؟ اور کيا يہ اخلاقيات اور صحافت کے پيشے کے اصول و ضوابط کے خلاف نہيں ہے؟ کيا آزادي بيان نامحدود امر ہے اور اس بہانے سے ہر بات کرنے اور توہين آميز خاکے شائع کرنے کي اجازت دي جا سکتي ہے؟

-

اس سارے معاملے ميں ايک اور اہم پہلو بھي قابل غور ہے کہ اس واقعہ ميں چار يہودي بھي مارے گئے کہ جن کي لاشيں پيرس سے اسرائيل لے جائي گئيں اور انہيں وہيں سپرد خاک کيا گيا- ناجائز ملک اسرائيل نے بھي اس واقعہ سے خوب فائدہ اٹھانے کي کوشش کي اور اس کے وزيراعظم نيتن ياہو نے اس دہشت گردانہ واقعہ کے خلاف پيرس ميں ہونے والي ريلي ميں شرکت کي کہ جس ميں بہت سے يورپي ملکوں کے سربراہوں اور نمائندوں نے بھي بڑے پيمانے پر شرکت کي تھي- نيتن ياہو نے ايک ايسے وقت ميں دہشت گردي کے خلاف ہونے والي اس ريلي ميں شرکت کي کہ جب وہ اور ان کي ناجائز صيہوني حکومت دنيا ميں سب سے بڑے دہشت گرد شمار ہوتے ہيں اور جنہوں نے مظلوم فلسطينيوں کے خلاف ظلم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور وہ پيرس کے واقعہ سے غلط فائدہ اٹھا کر خود کو بھي مظلوم اور دہشت گردي کا شکار ظاہر کرنے کي کوشش کر رہے ہيں- دوسري جانب يہ امر بھي پيش نظر رہے کہ فرانس نے حال ہي ميں سلامتي کونسل ميں فلسطيني رياست کے قيام کے حق ميں ووٹ ديا تھا جس پر اسرائيل اور امريکہ نے ناراضي کا اظہار کيا تھا- کہيں ايسا تو نہيں کہ ايک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ان دونوں ملکوں نے اپنے زرخريد ايجنٹوں کے ذريعے پيرس ميں يہ کارروائي کروا کر ايک تير سے کئي شکار کرنے کي کوشش کي ہو؟ ايک تو يہ کہ فرانس کو اس کے موقف پر نظرثاني کرنے پر مجبور کيا جائے اور دوسرے يہ کہ نائن اليون کي طرح اس واقعہ کو بہانہ بنا کر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف پروپيگنڈے کو مزيد تيز کيا جائے- ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

دشمن کا اہم ہتھيکنڈہ شيعہ سني اختلافات کو ہوا دينا ہے: رہبر معظم

امريکہ داعش سے کيا چاہتا ہے