• صارفین کی تعداد :
  • 1888
  • 10/26/2014
  • تاريخ :

عراق ميں امريکا کا مقصد

عراق میں امریکا کا مقصد

عراق ميں ايک منتشر اور کمزور حکومت تکفيري دہشت گرد عناصر کے مقابلے ميں زيادہ دير تک ثابت قدم نہيں رہ سکے گي اور آخرکار ان کے بعض مطالبات کو ماننے پر راضي ہوجائے گي- اگر ايسا ہو جاتا ہے تو امريکہ عراق ميں موجود سني سياسي جماعتوں کو تکفيري دہشت گرد عناصر سے مزيد تعاون کرنے پر راضي کرسکے گا اور عراقي حکومت بھي امريکي اور تکفيري دہشت گرد عناصر کي جانب سے دباو کے آگے زيادہ مزاحمت نہيں کر پائے گي- دوسرے قدم پر امريکہ کي کوشش ہوگي کہ وہ عراقي حکومت کو ملکي آئين ميں بنيادي تبديلياں کرنے اور عراق ميں طاقت کے توازن کو تکفيري دہشت گرد عناصر کے حق ميں تبديل کرنے کيلئے مجبور کرے، تاکہ اس طرح عراق ميں تکفيري عناصر کي موجودگي کا مستقل جواز فراہم کيا جاسکے- اس اقدام کے نتيجے ميں عراق کے ايک حصے پر تکفيري دہشت گرد عناصر کا قبضہ پکا ہوجائے گا اور اسے عراق ميں حکمفرما سياسي نظام کي جانب سے بھي رسمي طور پر قبول کر ليا جائے گا- لہذا عراق ميں ايک ايسے نئے سياسي کھلاڑي کا اضافہ ہوجائے گا جو امريکہ اور مغربي طاقتوں کے تابع اور ان کے سياسي مفادات کي تکميل کا ضامن ہوگا-

مذکورہ بالا منظرنامے کے حقيقي صورت اختيار کر لينے کے بعد عراق کي مرکزي حکومت انتہائي درجہ کمزور ہو جائے گي کيونکہ کردستان کے خطے کے علاوہ عراق کے سني اکثريت والے علاقوں پر بھي اس کا تسلط جاتا رہے گا- دوسري طرف امريکہ کي جانب سے عراقي حکومت کو کنٹرول کرنے اور اس پر اسلامي مزاحمتي بلاک سے دوري اختيار کرتے ہوئے خطے ميں خود کو مغربي پاليسيوں سے ہم آہنگ کرنے کيلئے سياسي دباو کا ايک نيا ذريعہ اور محور بھي معرض وجود ميں آ جائے گا- ليکن وہ ہدف جو زيادہ خطرناک ہے اور ممکن ہے امريکہ نے اگلے مرحلے ميں اسے مدنظر قرار دے رکھا ہو، عراق کو تقسيم کرنے کي کوشش ہے-

مصنف کي نظر ميں اگر مذکورہ بالا اقدامات امريکہ کو عراق اور مشرق وسطيٰ ميں اپنے مطلوبہ اہداف تک پہنچانے ميں سودمند ثابت نہيں ہوتے تو امريکي حکام عراق ميں تکفيري دہشت گرد عناصر کو مستحکم کرنے کے بعد اس ملک کو تين چھوٹي رياستوں يعني شيعہ، سني اور کرد رياستوں ميں تقسيم کرنے کي کوششوں کا آغاز کرسکتا ہے- يہاں اس اہم نکتے کي جانب توجہ ضروري ہے کہ عراق کي ممکنہ تقسيم ميں تين اہم عوامل کارفرما ہيں جو عراق ميں ايک کمزور اور مشارکتي حکومت کي تشکيل، عراقي حدود ميں تکفيري دہشت گرد عناصر کي موجودگي کو رسمي طور پر قبول کئے جانے اور خطے کي اثر گذار طاقتوں خاص طور پر ايران اور ترکي کي جانب سے مخالفت کا اظہار نہ کئے جانے پر مشتمل ہيں-

ايسا محسوس ہوتا ہے کہ اس وقت عراق ميں امريکہ کا اصلي ہدف ايک کمزور اور اپني ہم خيال مرکزي کابينہ کي تشکيل کے بعد اس ملک ميں تکفيري دہشت گرد عناصر کي موجودگي کو مضبوط بناتے ہوئے عراق کے سياسي جغرافيا ميں ان کے وجود کو رسمي حيثيت دلوانا ہے- امريکي حکام نے اس وقت تک عراق کي تقسيم کے بارے ميں کوئي حتمي فيصلہ نہيں کيا ہے، اگرچہ اکثر امريکي سياست دان اس تقسيم کے حق ميں نظر آتے ہيں- وہ اس وقت عراق کے اندروني حالات خاص طور پر خطے کي طاقتوں جيسے ايران کے ردعمل اور رويوں کا مطالعہ کرنے ميں مصروف ہيں-


متعلقہ تحریریں:

داعش، پيغمبر (ص) اور صحابہ کرام کي سيرت کے خلاف

داعش کے سني حامي کون ہيں؟