• صارفین کی تعداد :
  • 4200
  • 9/23/2014
  • تاريخ :

حضرت علي عليه السلام کي جنگيں ( حصّہ ہفتم )

حضرت علی علیه السلام کی جنگیں   ( حصّہ  ہفتم )

1- تلخيص تاريخ الخوارج: مولف محمد شريف سليم، 1342 ہجري، قاہرہ سے شائع ھوئي-

2- الخوارج في الاسلام: مولف عمر ابو النصر، 1949 عيسوي، بيروت سے شائع ھوئي-

3-وقعہ النہروان: مولف خطيب ہاشمي ، 1372 ہجري، تہران سے شائع ھوئي-

4- الخوارج في العصر الاموي: مولف ڈاکٹر نايف محمود جو دو مرتبہ بيروت سے شائع ھوئي-دوسري مرتبہ کي تاريخ 1401 ہجري ھے-

مستشرقين ميں سے بھي کچھ لوگوں نے اس موضوع کي طرف توجہ دي ھے اور مختصر کتابيں تحرير کي ھيں-مثلاً:

5- الخوارج والشيعہ:جرمني مولف فلوزن نے 1902ء ميں جرمني زبان ميں لکھا ھے عبدالرحمٰن بدوي نے اس کا عربي ميں ترجمہ کيا ھے-

6- ادب الخوارج: يہ زھير قلماوي کے 1930 ء سے 1940ء ايم اے کي تحقيق(تھيسيس) تک ھے قلماوي نے اس تحقيق ميں خوارج کے بہت سے شاعروں کا تذکرہ کيا ھے مثلاً عمران بن حطان يہ کتاب 1940 ء ميں شائع ھوئي ھے-

ميں نے(اس کتاب کے مولف نے) خوارج کے واقعات کي تحقيق و تنقيد ميں اسلام کي اصل کتابوں سے رجوع کياھے اور ايک خاص طريقے سے جيسا کہ اسلامي تاريخ ميں تحقيق و تنقيد کا رواج ھے موضوعات کو تحرير کيا ھے خود کو ان کتابوں کي طرف رجوع کرنے سے بے نياز نھيں سمجھتا-

خوارج کا بدترين مظاہرہ

لفظ خوارج بہت زيادہ استعمال ھونے والے لفظوں ميں سے ھے اور علم تاريخ اور علم کلام کي بحثوں ميں بہت زيادہ استعمال ھوا ھے اور عربي لغت ميں يہ لفظ حکومت پر شورش وحملہ کرنے والوں کے لئے استعمال ھوتا ھے اور خوارج ايسے گروہ کو کہتے ھيں جو حکومت وقت پر کے خلاف ھنگامہ کھڑا کرے اور اسے قانوني نہ جانے، ليکن علم کلام اور تاريخ کے علماء کي اصطلاح ميں امام عليہ السلام کے سپاھيوں ميں سے نکلے ھوئے گروہ کو کہتے ھيں جنھوں نے ابوموسيٰ اشعري اور عمرو عاص کي حکميت کو قبول کرنے کي وجہ سے اپنے کو امام عليہ السلام سے جدا کرليا اور اس جملے سے اپنا نعرہ قرار ديا ”‌ ان الحکم الا للّٰہ “اوريہ نعرہ ان کے درميان باقي رہا اور اسي نعرہ کي وجہ سے علم ملل ونحل ميں انھيں ”‌ محکمہ “ کے نام سے ياد کيا گياھے- ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

حديث غدير مدينہ منورہ ميں

فتح مکہ

امام کا مرحب سے مقابلہ

امام علي (ع) کا عمرو سے مقابلہ