• صارفین کی تعداد :
  • 1160
  • 9/19/2014
  • تاريخ :

داعش کے خلاف عالمي اتحاد

عراق میں امریکی خیانت

حاليہ دنوں ميں امريکہ نے بظاہر داعش کے خلاف کھڑے ہونے کا عنديہ ديا ہے مگر بہت سارے ممالک امريکہ کي سابقہ کارکردگي کو مدنظر رکھتے ہوۓ ، اس امريکي عزم کو بھي مشکوک نظر سے ديکھ رہے ہيں - حاليہ دنوں ميں امريکہ نے داعش کي پيش قدمي روکنے کے ليۓ مختلف ممالک سے تعاون حاصل کرنے کے ليۓ کوششوں کو تيز کر ديا ہے -

امريکي وزير خارجہ جان کيري نے سعودي عرب کے حکمرانوں سے ملاقات کے بعد جو اعلاميہ جاري کيا ہے اس کے تحت دس عرب رياستيں امريکہ کے ساتھ مل کر داعش کي پيش قدمي روکنے کے ليے وسائل مہيا کرنے کے ليے تيار ہو گئي ہيں-ان دس رياستوں ميں سعودي عرب کے علاوہ بحرين، مصر، عراق، اردن،کويت، لبنان، عمان، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہيں-اس اتحاد ميںترکي کو بھي شموليت کي دعوت دي گئي ليکن ترکي نے اس بنا ء پر معذرت کي کہ اس کے 49سفارت کار اور ان کے بچے داعش کي قيد ميں ہيں ان سب کو عراق کے شہرموصل کے قونصل خانے سے داعش کے عسکريت پسندوں نے اغوا کيا تھا-امريکي اتحاد ميںترکي کي شموليت سے ان کي جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے-

داعش کي تنظيم ، اس کے عزائم کا احاطہ کرتے ہوئے يہ سوال سبھي ذي شعور کے ذہن ميں آتا ہے کہ آخر کيا وجہ ہے کہ ايسي عسکري تنظيموں کي نرسري ملت اسلاميہ ہي کيوں ہے!- ان تنظيموں کے ذريعے  ملت اسلاميہ ہي کو تباہي اور بربادي کا سامنا کيوںکرنا پڑتا ہے؟بات يہاں ہي ختم نہيں ہوتي بلکہ" ہمارا جوتا اور ہمارا ہي سر"کے مصداق ان تنظيموں کي افرادي قوت بھي ملت اسلاميہ ہي کي ہوتي ہے اور ان کا شکار بھي ملت اسلاميہ کے ممالک اور عوام ہي ہوتے ہيں-ان تنظيموں کو ختم کرنے کے ليے جو عسکري قوت استعمال کي جاتي ہے اس کے ليے وسائل بھي امريکہ ملت اسلاميہ کے امير ممالک سے ہي حاصل کرتا ہے- القائدہ کو ختم کرنے کے ليے عرب ممالک نے امريکہ اور اتحاديوں کو خطير رقم دي اور اب داعش کے خلاف اقدامات کے ليے سعودي عرب سميت دس اسلامي ملکوں نے امريکي وزير خارجہ کے حاليہ دورہ ميں انساني ہمدردي کے نام پر داعش کے خاتمے کے ليے تعاون کي پيش کش کي ہے -تعاون کي يہ پيش کش بھي خطير رقم کي فراہمي کا ملفوف اظہار ہے- ( جاري ہے )

 

شعبۂ تحریر و پیشکش تبیان

 


متعلقہ تحریریں:

داعش کے خلاف جنگي طيّاروں کے استعمال کي تياري

عراق ميں داعش گروہ کي دہشتگردي