• صارفین کی تعداد :
  • 4845
  • 9/2/2014
  • تاريخ :

علمي اور ديني حوزات کي ترويج ميں امام رضا (ع) کا کردار(حصّه هفتم)

علمی اور دینی حوزات کی ترویج میں امام رضا (ع) کا کردار(حصّه هفتم)

بحث کا نتيجہ:

امام رضا (ع) کے دور ميں علم و دين کے بارے ميں مذکورہ بالا واقعات و حقائق اور ان دو کي ترويج ميں امام رضا (ع) کے کردار کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم اس نتيجے پر پہنچتے ہيں کہ آپ (ع) کے دور ميں علم اور دين کے درميان نہ تو تمايز تھا اور نہ ہي تعارض بلکہ علم اور دين خدا کي طرف انسان کي ہدايت کے سلسلے ميں ايک دوسرے کي پشت پناہي کرتے ہيں- نہ علم دين کي نفي کرتا ہے اور نہ ہي دين علم کي نفي کرتا ہے- ان کے درميان کوئي تعارض نہيں ہيں اور يہ دو ايک دوسرے کے مد مقابل نہيں ہيں اور اگر علم کا اثبات ہوجائے تو دين کي نفي نہيں ہوتي اور اگر دين کا اثبات ہو تو علم کي نفي نہيں ہوتي؛ ايسا ہرگز نہيں ہے کہ اگر کوئي ديني اصول ثابت ہوجائے تو کوئي سائنسي اور علمي اصول باطل ہوجائے-

امام (ع) کے دور ميں ايسا کوئي تعارض نظر نہيں آتا- علم و دين کے درميان تمايز اور اختلاف بھي نظر نہيں آتا اور ايسا نہيں تھا ( اور نہ ہے) کہ علم و دين کے درميان کوئي بھي وجہ اشتراک نہ ہو اور معني کے لحاظ سے روش اور غايت مکمل مفارقت ميں قرار پائي ہو؛ اور علم و دين الگ الگ اور ايک دوسرے سے غير متعلق اور غير مربوط فرائض کے عہدہ دار ہوں؛ اس دور ميں ايسا بھي نہيں تھا بلکہ علم و دين کے آپس کي نسبت اس دور ميں توافق اور ايک دوسرے کي تکميل سے عبارت تھي- يعني ان دو مقولوں کے درميان مکمل سازگاري اور ہماہنگي تھي اور اس کے علاوہ وہ ايک دوسرے کو مکمل کرنے کا کردار ادا کيا کرتے تھے- علماء اور دانشور جو اسلامي معاشرے کي نمائندگي کرتے تھے غالباً دين اور علم کے پيکر تھي اور علماء اور دانشوروں کي اکثريت ديندار افراد اور علمائے دين پر مشتمل تھي اور علمائے دين ہي ديگر علوم و فنون کے بھي استاد تھے-

البتہ يہ ہرگز فراموش نہيں کرنا چاہئے کہ اسلامي معاشروں کے لئے يہ عظيم نعمت ائمہ ہدايت (ع) اور حضرت امام علي بن موسي الرضا (ع) کے فيضان کا نتيجہ تھا- اور اسلامي تہذيب ميں اعتلا و ارتقاء اور ديني تہذيب کي باليدگي حضرت ثامن الحجج (ع) اور آپ (ع) کے آباء طيبين (ع) کي مرہون منت تھي کيونکہ اس زمانے ميں دين کي ترويج و حفاظت اور علم و سائنس کي ترويج کا کام صرف ائمہ طاہرين (ع) کے توسط سے انجام پاتا رہا، دوسرے تو دوسرے کاموں ميں مصروف تھے اور اگر کسي حاکم نے علم کي ترويج کي حمايت کي ہے تو يہ اس کي مجبوري بھي تھي اور وجہ شہرت بھي ہوسکتي تھي!- اور ايسا ہرگز نہيں ہے کہ ہارون و مأمون ان برکات کا سرچشمہ ہوں جيسا کہ بعض درباري مۆلفين نے تحرير کيا ہے-

کيوں کہ يہ جاننا ضروري ہے کہ "اس علمي اور ديني تحريک کا سرچشمہ کہاں ہے؟ اور يہ کہ يہ پيشرفت و ترقي کہاں سے شروع ہوئي ہے جس کے نتيجے ميں ہارون اور مأمون کے دور ميں علم کا مقام و مرتبہ حد کمال کو پہنچا؟ اس دور ميں علم کا چرچا اس لئے ہوا کہ صادقَين (امام باقر اور امام صادق) عليہماالسلام کے دور ميں عظيم ترين علماء، فقہاء، قضات، ادباء اور شعراء ابھرے، علمي و سائنسي مقابلے اور ادبي مناظرے ہوئے، مفکرين اور ارباب علم و نظر وجود ميں آئے اور انہوں نے نور وجود امام باقر اور امام صادق (ع) کي خدمت ميں زانوئے تلمذ تہہ کيا اور ان ہي لوگوں نے دوسري اسلامي صدي کے نصف ثاني اور تيسري اسلامي صدي کے نصف اول کو اپني کاوشوں اور آثار سے منور کيا اور ان دوخلفاء کي اہميت کا سبب يہ ٹہرا کہ ان کے دور ميں علم و دانش اپنے اصلي سرچشموں سے پھوٹتا رہا- اور بہت سے لوگ ائمہ طاہرين کے نوراني وجود سے پھوٹتے علم و دانش کے سرچشموں سے سيراب ہونے کل لئے تيار ہوئے اور رشد و کمال کے عروج پر پہنچے--- خلاصہ يہ کہ عصري تقاضوں ہي کا تقاضا ہوا کہ منصور عباسي اور ہارون و مأمون علم کے طالب و خريدار ٹہريں جيسا کہ سرکاري جبر کے تقاضوں کا تقاضا ہے!!!- (ختم شد)


متعلقہ تحریریں:

معرفت، اخلاص کے بغير ميسر نہيں ہوتي

امام جواد عليہ السلام نے والد گرامي کو غسل ديا