• صارفین کی تعداد :
  • 882
  • 6/27/2014
  • تاريخ :

عراق ميں امريکي خيانت

عراق میں امریکی خیانت

امريکہ نے ايک خاص منصوبہ بندي کے ذريعے سے مشرق وسطي کے حالات کو خراب کروا رکھا ہے جہاں پر غيررياستي دہشتگردوں کے ذريعے علاقائي ممالک کو غير مستحکم کيا جا رہا ہے - عراق کے ايک اعلي سکيورٹي افسر نے کہا ہےکہ بعثيوں اور امريکہ کي خيانت سے تکفيري دہشتگرد گروہ داعش عراق کے مغربي علاقوں ميں بدامني پھيلا رہا ہے-

عراق کے اس اعلي سکيورٹي عھديدار نے اپنا نام نہ بتائےجانے کي شرط پر فارس نيوز سے گفتگو ميں تکفيري دہشتگرد گروہ داعش کي کاروائيوں، اس کي آمدني کے ذرائع اور اسکے ہتھياروں کے بارے ميں تفصيلات بتائي ہيں- اس عراقي عھديدار نے کہا کہ داعش کے ہراول دستے ميں سابق بعثي عناصر اور صدام کي اسپيشل فورسز نيز بيروني عناصر شامل ہيں- انہوں نے کہا کہ ان عناصر نے عراق ميں شيعہ مسلمانوں کي حکومت کے برسر اقتدار آنے کےبعد شروع ہي سے عراق ميں بدامني پھيلا کر اس حکومت کو کمزور ظاہر کرنے کي کوشش کي ہے- انہوں نے کہا تکفيري گروہ داعش ميں چيچنيا، ليبيا، تيونس، افغانستان اور پاکستان کے کرائے کے ايجنٹ شامل ہيں اور گذشتہ تين برسوں ميں انہيں اردن، ترکي اور پاکستان ميں سي آئي اے اور موساد کے افسروں نے ٹريننگ دي ہے جس کے نتيجے ميں انہيں جنگ کا کافي تجربہ ہوگيا ہے- اس عراقي سکيورٹي افسر نے کہا کہ گذشتہ تين برسوں ميں تکفيري گروہ داعش کو اپنے مغربي حاميوں بالخصوص امريکہ سے پيشرفتہ ہتھيار ملے ہيں اور اب عراق ميں يہ ہتھيار استعمال کئے جا رہے ہيں- انہوں نے کہا کہ داعش کے عناصر ٹريننگ يافتہ اور شمالي عراق ميں فوجي علاقوں کو بخوبي جانتے ہيں اور ان ميں بيشتر کے پاس اسنائپر گن بھي ہے- انہوں نے کہا کہ عراقي فوج ميں شامل بعثي عناصر اور امريکيوں کي خيانت سے يہ صورتحال پيش آئي ہے اور امريکہ گذشتہ دس برسوں سے عراقي حکومت پر مسلسل دباۆ ڈالتا آرہا ہے کہ بعثيوں کوفوج ميں شامل کيا جائے اور انہيں اہم کمانڈ بھي سونپي جائے جس کے نتيجے ميں بعثي عناصر فوج ميں گھس چکے ہيں اور جہاں جہاں وہ موجود ہيں خيانت کررہے ہيں- عراق کے اس اعلي سکيورٹي افسر  نے کہا کہ جہاں بعثي کمانڈر ہيں انہوں نے ايسي سازش کي ہے کہ  جس فوجي اڈے ميں بڑے بڑے ہتھيار ہيں وہاں گولہ بارود نہيں ہے اور جہاں گولہ بارود ہے وہاں ہتھيار نہيں ہيں جس کي وجہ سے فوج کو دہشتگردوں کے خلاف کاروائياں کرنے ميں کافي مشکل پيش آرہي ہے- انہوں نے کہا کہ امريکہ نے گذشتہ دس برسوں ميں اس بات کي اجازت نہيں دي کہ عراق کي فوج طاقتور ہو نہ ہي اسے ماڈرن ہتھياراور فوجي ساز و سامان فراہم کيا، انہوں نے کہا کہ عراقي فضائيہ کا بھي برا حال ہے اور بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہےکہ فوج ميں اب تک مضبوط انٹلجنس نظام قائم نہيں ہوسکا ہے جبکہ امريکہ بعثي عناصر کو فوج ميں رکھنے پر دباۆ ڈال رہا ہے- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

امريکہ پر شام ميں ميں دہشت گردوں کي حمايت پر تنقيديں

عراق ميں ووٹروں کو مکمل تحفظ ديئےجانے پر نوري مالکي کي تاکيد