• صارفین کی تعداد :
  • 954
  • 6/10/2014
  • تاريخ :

پاکستان ميں دہشتگردي کے دو المناک واقعات

پاکستان  میں پرتشدد واقعات، کئی ہلاک و زخمی

پاکستان ميں دہشتگردي کے دو بڑے اور المناک واقعات رونما ہوئے جن ميں درجنوں بے گناہوں کو خاک و خون ميں نہلا ديا گيا- تفتان ميں زائرين کي شہادت پر گفتگو تھوڑي دير بعد کي جائے گي پہلے کراچي ميں رونما ہونے والے واقعہ کا ذکر کرتے ہيں جہاں کراچي کے انٹرنيشنل ايئرپورٹ پردہشتگردوں نے حملہ کر کے ايئرپورٹ کے نظام کو درہم برہم کرديا- اس واقعہ کي رپورٹ اس ملک کےوزيراعظم نواز شريف کو پيش کردي گئي جس ميں کہا گيا ہے کہ دہشت گرد تمام طيارے تباہ کرنا چاہتے تھے- اس رپورٹ ميں کہا گيا ہے کہ دہشت گرد پرانے ايئرپورٹ کے 2 اطراف سے داخل ہوئے اور ٹرمينل کے قريب کھڑے تمام جہازوں کو نشانہ بنا کر تباہ کرنا چاہتے تھے تاہم پاکستاني فوج، رينجرز، اے ايس ايف اور پوليس کے اہلکاروں نے دہشت گردوں کے حملے کو پسپا کرتے ہوئے اپني جانوں کي قرباني دے کر ٹرمينل پر کھڑے جہازوں کو بڑي تباہي سے بچايا- اس حملے کے نتيجے ميں اے ايس ايف کے 8 رينجرز کا ايک اور پوليس کے 2 اہلکاروں سميت 19 افراد جاں بحق جب کہ 26 زخمي ہوئے اس کے علاوہ فورسز کي کارروائي ميں تمام 10 حملہ آور مارے گئے- کراچي ميں رونما ہونے والے واقعہ سے چند گھنٹے قبل پاکستان، ايران بارڈر پر صوبہ بلوچستان کے علاقے تفتان ميں واقع ہاشمي اور المرتضي ہوٹل ميں ايران سے کوئٹہ کي جانب جانے والے زائرين کو ايک مرتبہ پھر دہشتگردوں نے اس وقت اپني بربريت کا نشانہ بنايا، جب زائرين ايراني بارڈر سے کليئرنس ملنے کے بعد تفتان ميں واقع ہاشمي ہوٹل ميں قيام پذير تھے- ذرائع کے مطابق تفتان ميں‌ واقع ہاشمي ہوٹل ميں پہلے دہشتگردوں نے زائرين پر شديد فائرنگ کا سلسلہ شروع کيا، بعدازاں خودکش بمباروں نے بھي اپنے آپ کو ہوٹل ميں اُڑا ديا جس کے نتيجے ميں 26 زائرين شھيد اور 20 سے زائد زائر زخمي ہوئے- شہيد ہونے والے زائرين ميں 3 خواتين بھي شامل ہيں جبکہ شديد زخميوں کے باعث شُہداء کي تعداد ميں مزيد اضافے کا خدشہ ہے جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق مرنے والوں کي تعداد تيس کے قريب ہے- تفتان کے علاقے ميں ہسپتال اور ديگر طبي سہوليات نہ ہونے کي وجہ سے زائرين کو شديد مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کے بعد زخميوں کو کوئٹہ کے سي ايم ايچ ہسپتال منتقل کر ديا گيا- ہمارے ساتھي نے اس موضوع پر مجلس وحدت مسلمين بلوچستان کے سيکرٹري جنرل علامہ مقصود علي ڈومکي سے جب اس سانحہ پر ان کا ردعمل جاننا چاہا تو ان کا کہنا تھا-

مجلس وحدت مسلمين بلوچستان کے سيکرٹري جنرل نے جس طرح ابھي اپني گفتگو ميں کہا کہ اگر حکومت دہشتگردوں کےخلاف کارروائي کرتي اور دہشتگردوں کے نيٹ ورک کو تباہ کرديتي تو تفتان کا واقعہ رونما نہ ہوتا- انہوں نے کہا کہ حکومت کي غلط پاليسي کي وجہ سے پاکستان کے عوام عدم تحفظ کا شکار ہيں اور آئے دن شيعہ مسلمانوں کاخون پاني کي طرح بہايا جاتا ہے- انھوں نے آج کے واقعے کي مذمت اور حکومت کي کارکردگي پر کڑي نکتہ چيني کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے ساتھ کئي بارمذاکرات ہوئے اور حکومت نے ہر بار يقين دہائي کرائي کہ دہشتگردوں کےخلاف کريک ڈاۆن کيا جائےگا اور شيعہ مسلمانوں کو تحفظ فراہم کيا جائےگا ليکن آج تک اس پر عمل درآمد نہيں ہوا اور ہم ہر روز جنازے اٹھا رہے ہيں-

يہ واقعات اس بات کا بين ثبوت ہيں کہ پاکستان اور اسلام دشمن دہشتگرد بے گناہ افراد اور پاکستاني اثاثوں کو اپني دہشتگردانہ کارروائيوں کا نشانہ بنا رہے ہيں، جبکہ حکومت ان دہشتگردوں کي بيخ کني کے بجائے مذاکرات کے ذريعے انہيں ڈھيل ديئے ہوئے ہے- شايد اب وقت آن پہنچا ہے کہ ان پاکستان اور اسلام دشمن دہشتگردوں کے خلاف بھرپور آپريشن کيا جائے اور بے گناہ پاکستاني عوام کو ان کي بربريت سے نجات دلائي جائے-اس لئے کہ آج پاکستان کے ہر شيعہ مسلمان کے ذہن ميں سب سے بڑا سوال يہ پيدا ہوتا ہے کہ کيا آئے دن دہشتگردي کا نشانہ بننا ان کا مقدر بن گيا ہے؟ کيا اب پاکستان کي سرزمين ان کے لئے تنگ کي  جا رہي ہے؟ کيا خيبر پختونخوا سے کراچي، گلگت بلتستان سے بلوچستان اور پنجاب کے دور دراز علاقوں تک انھيں کسي نہ کسي شکل ميں مسلسل دہشتگردي کا شکار ہونا پڑے گا؟ اس ملک کےچپے چپے سے زمين خون اگل رہي ہے، يہاں مذہب کے نام پر سامراج کے ايجنٹ خون کي ہولي کھيل رہے ہيں اور کل تفتان کا واقعہ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے جس ميں تکفيري دہشتگردوں کے يکے بعد ديگرے خودکش حملوں اور فائرنگ کےنتيجےميں کم سےکم درجنوں زائرين شھيد اور 20 سے زائد زخمي ہو گئے- زخميوں ميں متعدد کي حالت اب بھي تشويشناک ہے جس کي وجہ سے شہادتوں ميں اضافے کاخدشہ ہے- ہرچند کہ يہ خبر تازہ ترين اور بريکنگ نيوز ہے ليکن نئي نہيں ہے اس طرح کے واقعات تقريبا روز ہي پاکستان کولہولہان کر رہے ہيں اور يہ اس ملک کي بات ہو رہي ہے کہ جہاں اکثريت مسلمانوں کي ہے اور مسلمانوں کے نام پر يہ ملک بنايا گيا- توکيا يہ سمجھا جائے کہ اس ملک ميں مسلمان، مسلمان کو مار رہا ہے؟ کلمہ گو، کلمہ گو کو قتل کر رہا ہے- جبکہ بظاہر تو ايسا ہي نظرآتا ہے ليکن اگر فلسطين، شام ،عراق بحرين اورافغانستان کےحالات کا غور سے جائزہ ليا جائے تو معلوم ہو جائےگا کہ اس کي پشت پر کون سي طاقتيں ہيں؟ عراق اور افغانستان پرحملہ کرنے والے کون ہيں؟ شام کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے کون ہيں؟ بحرين کے نہتے اور مظلوم عوام کي سرکوبي کس کے اشارے پر ہو رہي ہے؟ اور پاکستان کے شيعہ مسلمانوں کي نسل کشي کس کے ہاتھوں اور کيوں ہو رہي ہے؟

 

بشکریہ اردو ریڈیو تھران

 


متعلقہ تحریریں:

کراچي: کالعدم لشکر جھنگوي کے دو دہشتگرد گرفتار

پاکستان ميں ايک ديني مدرسے کے خلاف امريکي پابندي