• صارفین کی تعداد :
  • 3042
  • 3/20/2014
  • تاريخ :

صوبہ يزد

صوبہ یزد

صوبہ يزد ايران کا صحرايي علاقہ ہے اور ايراني  زرتشتيوں کا سب سے بڑا گروہ اسي صوبے  خاص طور پر يزد کے شہر ميں رہتے ہيں- صوبہ يزد ايک تاريخي علاقہ ہے جو پارس، اصفہان، کرمان اور خراسان جيسے پرانے شہروں کے درميان واقع ہے- ايران کا پانچ ہزار سالہ درخت اسي صوبے، ابرکوہ کے شہر ميں واقع ہے جو دنيا کے قديمترين درختوں ميں سے ہے- اس کي لمبائي 25متر ہے- يہ درخت وہاں کے لوگوں کے بيچ بابا چنار کے نام سے مشہور ہے- نارين قلعہ بھي جو دنيا کا سب سے پرانا خشتي عمارت ہے  اسي صوبے کا ہے- ايران کي سب سے پراني مسجد بھي اسي صوبے ميں يزد کے 30 کيلومتري پر واقع ہے-درہ گان کا جھڑنا صوبہ يزد کي خوبصورت قدرتي مناظر ميں سے ہے جو شہر تفت ميں واقع ہے- زرتشتيوں کا بہت مشہوراور اصلي  آتشکدہ، چک چک ، بھي اسي صوبہ کے شہر اردکان(اردکان اور انجيرہ کے پہاڑوں کے درميان) ميں ہے- ہر سال زرتشي لوگ 24 خرداد کو يہاں آکے دو ہفتہ کے ليے ايک دوسرے کے ساتھ اللہ کي عبادت کرتے ہيں-غربالبيز کا چشمہ بھي ايک پرانا چشمہ ہے جو 

اردکان کا جامع مسجد، ابر کوہ کا گنبد عالي، طبس کا باغ گلشن، مہريز کا خورميز قلعہ، مہريز ميں زين العابدين کا  کاروانسرا، غرباليز کا چشمہ، رجال اردکان کا عجايب گھر، تفت ميں دہ بالا کا جھرناو غيرہ اس صوبے کے ديگر  اہم تاريخي اور قدرتي قابل ديد جگہ ہيں-

يزد ونيز کے بعد دنيا کا دوسرا پرانا شہر ہےجس کے بے شمار آثار قديمہ اور تاريخي عمارتيں  ديسي اور پرديسي سياحوں کو اپني طرف کھينچتاہے- اس شہر کے اکثر  ملےگئے آثارقديمہ  پانچويں صدي ہجري سے متعلق ہيں اور  بعض دوسري اور تيسري صدي ہجري سے مگر بہت سے مورخيں کا خيال ہے کہ يزد کا پرانا پن اسلام سے پہلے تک پہنچ جاتاہے- دولت آباد کا باغ اس شہر کے حسين باغوں ميں سے ہے  جو محمد تقي خان (زنديہ) کے دور ميں بنايا گيا ہے- لاريوں کا گھر بھي اس شہر کے توريستي مقامات ميں سے ہے اور 1963 قمري ميں بنايا گيا تھا- حاج محمد ابراہيم لاري اس عمارت کا مالک تھا- ضيانيہ کا مدرسہ بھي جو 631 ہجري قمري سے متعلق ہے شرف الدين رضي علي کے کہنے پر بنايا گيا ہے- يہ مدرسہ نھادان کے محلے پر بارہ اماموں کے بقعے کے قريب واقع ہوا ہے- زرتشتيوں کا آتشکدہ، امير چخماق کي مسجد اور ميدان، جامع مسجد، ربگ مسجد، لاريوں کا گھر، محمودي کا گھر، حمام خان ، خان کا بازار، گھڑي کا مينار، دولت آباد کا باغ، پاني کا عجايب گھر، پلاس کا عجايب گھر، اسکندريہ کا جيل اس شہر کے پرانے تہذيب کے نشان ہيں-

 

ترجمہ : منیرہ نژادشیخ


متعلقہ تحریریں:

ملا صدرا کا تاريخي گھر