• صارفین کی تعداد :
  • 3423
  • 3/4/2014
  • تاريخ :

اصفہان نصف جہان

اصفہان نصف جہان

صوبہ اصفہان ايران کے مرکز ميں  واقع ہے - يہ صوبہ صنايع دستي بنانے کا سب سے بڑا مرکز ہے-صفوي دور ميں اس صوبے کي بہت ترقي ملي - اس صوبے کا مرکزي شہر اصفہان  ہے جو  ايک قديم شہر ہے اور ايران کے  مرکز اور زايندہ رود کے کنارے پر واقع ہے-  ايران کي تہذيب ميں يہ شہر نصف جہان کے نام سے مشہور ہے- اصفہان، تہران اورمشہد کے بعد ايران کا سب سے گنجان آباد  شہر ہے- اس شہر ميں بہت ساري تاريخي  عمارتيں موجود ہيں  جن ميں سے بعض  کے نام تاريخي ورثے کے نام سے يونسکو ميں لکھے گئے ہيں- چہل ستون کا باغ شاہ عباس کے عہد ميں بنايا گيا ہے جس کے درميان چہل ستون کي عمارت موجود ہے-ہشت بہشت کي تاريخي عمارت صفوي بادشاہوں کا محل تھا جو 1080ھ ميں بنايا گيا ہے- اس تاريخي جگہ کے باغ اپني اصل حالت ميں باقي نہيں  رہا ہے مگر اس کا محل اب بھي ديکھنے کے قابل ہے- اس دہائي ميں اس محل کے اردگرد ايک بڑا شاندار پارک بنايا گيا تھا جو اس محل کي خوبصورتي کو دگنا کرديا ہے-عالي قاپو کي پانچ منزلہ عمارت کو  بارہويں صدي ہجري کي ابتدا ميں شاہ عباس اول کے حکم پر بنايا گيا تھا اور بادشاہ اس محل ميں سفيروں اور عالي مرتبہ مہمانوں سے ملتے تھے اور اسي محل کے تالار سے مہمانوں کے ساتھ چوگان، آتشبازي اور  چراغاني جيسے کھيلوں کو ديکھتے تھے- اصفہان کے مينار جنبان  کي شہرت اس کے دو ميناروں کے لرزنے کي وجہ سے ہے-ايک مينار کے لرزنے سے پوري عمارت لرزنے لگتي ہے- ہر مينار کي لمبائي 17 ميٹر ہوتي ہے-اس عمارت کا ايوان مغل معماري کي طرز پر بنائيا گيا ہے- ايسا کہا جاتا ہے کہ دو ميناروں کو  اس ميں  اضافہ کيا گيا ہے-ايوان ميں چچا عبداللہ کے نام پر ايک قبر ہے جو مغل عہد کے ہمعصر تھے-اللہ وردي خان کا پل ايران کے پل بنانے کي معماري ميں بڑا شہکار ہے- يہ پل سي و سہ (33) پل کے نام سے مشہور ہے اور 1005ہجري کو شاہ عباس اول کے عہد ميں اللہ وردي خان کے پيسے اور زيرنگراني ميں زايندہ رود پر بنايا گيا ہے- اس پل کا طول 3000 ميٹر ہے اور اس لحاظ سے زايندہ رود کا سب سے لمبا پل ہے- خوبصورتي اور عظمت کے لحاظ سے يہ پل بہت منفرد ہے-پل خواجو بھي تيموري دور ميں بنايا گيا اور شاہ عباس دوم کے دور ميں اس کي مرمت ہوئي اور آج کے روپ ميں ڈھل گيا- شاہ کے عارضي قيام کے ليے اس پل کے بيچ ميں ايک عمارت بنائي گئي جو بيگلر بيگي کے نام سے مشہور ہے- اس پل کا اصل نام شاہي پل ہے اور خواجو محلے کي مجاورت کي وجہ سے  يہ دو صدي ميں پل خواجو کے نام سے مشہور ہو گيا ہے- صوبہ اصفہان کے ديگر تاريخي سياحتي جگہوں کا نام حسب ذيل ہيں:آران اور بيدل نمک کا جھيل، سيلک کي پہاڑي، مارنان کا پل، ابيانہ گاۆں، گوگد کا گڑھ، شيخ بہائي کا گڑھ، توحيد خانہ کي عمارت، وانک کا گرجا، زايندہ رود کا ڈيم، چار باغ کا مدرسہ، شيخ لطف اللہ کي مسجد، تخت فولاد اصفہان کا قبرستان، باقوشخانہ مينار، برسيان مينار، مرنجاب کا کاروانسرا، نياسر کا جھرنا وغيرہ -

 

ترجمہ و تحریر : منیرہ نژادشیخ


متعلقہ تحریریں:

ايران ميں  "گرما رود " نامي ديہات

خواف ايک  تاريخي شھر