• صارفین کی تعداد :
  • 6130
  • 3/8/2014
  • تاريخ :

شيعہ کافر ، تو سب کافر ( حصّہ ہفتم )
بسم الله الرحمن الرحیم

ممتاز شيعہ مختار ثقفي کہ جو شہادت حسين عليہ السلام کے وقت پابند سلاسل تھے کي بيڑياں کٹيں تو انھوں نے بھي قاتلان حسين (ع) سے انتقام لينے کي ٹھاني اپنے گرد ہزاروں شيعہ اکٹھا کئے -پھر چن چن کر قاتلان حسين (عليہ السلام)کو تہہ تيغ کيا ۔اس خونريزي کے دوران ہزاروں شيعوں نے جان ومال کي قرباني دي سانحہ کربلا کے بعد شيعيت کو ايک نئي زندگي ملي -قرباني کا ايک نيا جذبہ اور ولولہ ولائے اہلبيت کي بھر پور روشني !

سانحہ کربلا کے تقريبا دوسال بدع يزيد واصل جہنم ہوا -پھريزيدوں کي لائن لگ گئي -چہرے الگ الگ تھے مگر سب يزيد -تاريخ کا کيسا جبر ہے کہ کس مسند رسالت پر خليفہ رسول کے نام سے کيسے کيسے کوڑھي چہرے نظر آتے ہيں - مردان بن حکم ،عبدالملک بن مروان ،وليد بن عبد الملک ہشام بن عبد الملک اور پھران کے خونين گورنروں کا سلسلہ ،سب سے بڑھ کر عراق کا گورنر حجاج بن يوسف ،جس کے بارے ميں مولانا مودودي عاصم بن ابي النجود کا قول بيان کرتے ہيں کہ " اللہ کي حرمتوں ميں کوئي حرمت ايسي نہيں رہ گئي جس کا ارتکاب اس شخص نے نہ کيا ہو اور پھر مولانا و موصوف حضرت عمربن عبدالعزيز کا قول بيان فرماتے ہيں کہ " اگر دنيا کي تمام قوميں خباثت کا مقابلہ کريں اور اپنے اپنے سارے خبيث لےآئيں تو ہم تنہا حجاج کو پيش کرکے ان پر بازي لے جا سکتے ہيں -(خلافت و ملوکيت ص 185، 186)

پھر آگے چل کر کہتے ہيں کہ يہ ظلم وستم اس حد تک پہنچ گيا تھا کہ وليد بن عبدالملک کے زمانہ ميں ايک مرتبہ حضرت عمربن عبدالعزيز چيخ اٹھے کہ-

"عراق ميں حجاج ،شام ميں وليد مصر ميں قرہ بن شريک ،مدينہ ميں عثمان بن حيان ، مکہ ميں خالد بن عبداللہ القسري ،خداوند تري دنيا ظلم سے بھر گئي ہے ، اب لوگوں کو راحت دے "-(خلافت وملوکيت -187 -ابن اثير جلد 4 ص 137)

کو مرتے وقت وصيت کي کہ حجاج بن يوسف کا ہميشہ لحاظ کرتے رہنا -کيونکہ وہي ہے جس نے ہمارے لئے سلطنت ہموار کي ، دشمنوں کو مغلوب اور ہمارے لے خلاف اٹھنے والوں کو دبايا -"(ابن اثير جلد 4 ص 103 البدايہ جلد 9 ص 67 ،ابن خلدون جلد 3 ص 58)

ان يزون سے پہلے جن حضرات کا تذکرہ کيا گيا ہے وہ تو غلطي کرتے نہيں تھے - خطا اجتہادي کرتے تھے ،مگر ان وحشي درندوں کے بارے ميں کہ جن کے مظالم پر عمر بن عبدالعزيز بے اختيار چيخ اٹھے کہ خداوند تري دنيا ظلم سے بھر گئي ،اب تو انھيں راحت دے -يہ مولوي کيوں خاموش ہے ؟ ان بے رحم خليفوں اور ان کے درندہ صفت گورنروں کے ظلم کے خلاف مزاحمت کرنے والے شيعہ کو تو اسلام دشمن اور فسادي کہا جاتا ہے مگر ان ظالموں کےبارے ميں زبان خاموش ہے ------بات يہ ہے کہ ظلم کي حمايت ان کي ميراث ہے -

ہندوستان ميں بھي شيعوں پر کچھ ظلم نہيں ڈھائے گئے - اس سلسلہ ميں فيروزشاہ تغلق کا نام خاص طور سے قابل ذکر ہے جس نے شيعوں کو قتل کرايا -مختلف نوعيت کي سزائيں ديں - جزيہ تک عائد کرديا - ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں: