• صارفین کی تعداد :
  • 5874
  • 3/7/2014
  • تاريخ :

شيعہ کافر ، تو سب کافر ( حصّہ ششم )

 ائمہ اطہار

حضرت عثمان کے بعد مسلمان حضرت علي (ع) کے ہاتھ پر بيعت کے لئے ٹوٹ پڑے اور جب پہلي مرتبہ صحيح خلافت قائم ہوگئي تو وہي گروہ اس کے خلاف سرگرم ہوگيا کہ جو شروع ہي سے نہيں چاہتا تھا کہ خلافت کي مسند پر علي (ع) نظر آئيں،چنانچہ قصاص خون عثمان کا نعرہ لگا کر پہلے عائشہ بنت ابي بکر دختر خليفہ اول حضرت علي (ع) کے مقابلہ پر آئيں اور پھر کچھ عرصہ کے بعد شام کے گورنر معاويہ بن سفيان نے ان سے جنگ کي - ان دونوں جنگوں ميں عام مسلمانوں کے علاوہ شيعہ صحابہ کرام کثير تعداد ميں اپنے امام کے ہمرکاب تھے - حضرت علي عليہ السلام کي شہادت کے بعد ان کے بڑے بيٹے جناب حسن عليہ السلام منصب امامت پر فائز ہوئے تو شيعہ ان سے وابستہ ہو گئے اور جب آپ نے معاويہ سے صلح کر لي تو بھي شيعہ آپ سے وابستہ رہے -

حضرت امام حسن عليہ السلام جب تک زندہ رہے معاويہ کي آنکھوں ميں کھٹکتے رہے اور آخر کار اس نے ان کي جان لے کر ہي چھوڑ دي -علي الاعلان کچھ نہيں کرسکتا تھا تو زہر دغا سے شہيد کر ديا اور يہ سمجھ ليا کہ اب بادشاہت اس کي ہے -چنانچہ مرنے سے کچھ پہلے اپنے منحوس فرزند يزيد لعنت اللہ عليہ کو ولي عہد نامزد کر ديا -اپني زندگي ہي ميں اس کي ولي عہدي پر بيعت لے لي مگر حسين ابن علي عليھما السلام سے ايسے مطالبہ کي جراءت نہ کر سکا -

معاويہ کي وفات کے بعد يزيد تخت نشين ہوا اوراس نے مدينہ کے گور نر کو لکھا کہ حسين ابن علي (عليھما السلام) سےبيعت کامطالبہ کيا جائے کہاں نواسہ رسول حسين ابن علي (عليھماالسلام) اورکہاں ابو سفيان کے پوتے يزيد بن معاويہ کي بيعت -چہ نسبت خاک را با عالم پاک

نواسہ رسول نے بيعت يزيد کو ٹھوکر مای اور خطرات سے بے نياز ہو کر نکل کھڑے ہوئے تو يہاں بھي شيعہ ساتھ تھے -----

بہتر جانوں نے اس طرح جام شہادت نوش کيا کہ جس کي نظير نہيں ملتي -غيرت وعقيدت کا مسئلہ نہ ہوتا تو جان بھي بچتي اور انعام بھي ملتا -

حسين عليہ السلام شہيد ہو گئے - ہزاروں شيعہ مختلف وجوہ کي بنا پر نصرت امام نہ کر سکے -بعد شہادت حسين (ع) ،سليمان بن صرد کي سرکردگي مي روضہ حسين (ع) پر گئے اور رات بھر گريہ زاري کرتے رہے -صبح ہوئي تو اہلبيت کے دشمنوں سےٹکرانے کے لئے چل دئيے - اس اندوہناک واقعہ نے ان کي ضمير کو اس طرح جھنجھوڑ ا تھا کہ اب ان ميں جينے کي خواہش ہي ختم ہو گئي تھي -چنانچہ وہ دشمن کے خاتمہ پر تل گئے اور اس وقت تک دشمن کامقابلہ کرتے رہے جب تک کہ خود ختم نہ ہو گئے اور اس وقت تک دشمن کامقابلہ کرتے رہے جب تک کہ خود ختم نہ ہو گئے -چند افراد کے علاوہ سب ہي نے جان ديدي  - ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں: