• صارفین کی تعداد :
  • 5226
  • 2/23/2014
  • تاريخ :

گناہگاروں کي آسائش کا فلسفہ  ( حصّہ دوّم )

گناہگاروں کی آسائش کا فلسفہ  ( حصّہ دوّم )

اصولي طورپر اس دنيا کا نظام ، انتخاب واختيار کي بنياد پر قائم ہے - وہ جو قرآن کي تعبير ميں اپنے کانوں اور آنکھوں کو بند کرليتا ہے تو اسے زور وزبردستي اور جبري طور پر خدا اور حق و کمالات کي جانب نہيں بلايا جاسکتا - اسي بناء پر خداوند عالم ان افراد کو "استدراج" يعني تدريجي سزا يا عذاب استدراج  کي سنت ميں گرفتار کرديتا ہے - استدراج کي نوبت اس وقت آتي ہے جب انسان ، اسلام اور وحي کي تعليمات کامنکر ہوجائے اور تمام معجزات اور دلائل کے باوجود گمراہي اور کفر کاراستہ اختيار کرلے اور حق اور مسلمات کا منکر ہوجائے -سورۂ قلم کي آيت 44 ميں خداوند عالم ، کفارکے بارے ميں پيغمبر کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے - " تو اب مجھے ، ميري بات  کے جھٹلانے والوں کے ہمراہ چھوڑدو ، ہم عنقريب انہيں اس طرح سے گرفتار کريں گے کہ انہيں اندازہ بھي نہ ہوگا اور ہم تو اس لئے ڈھيل دے رہے ہيں کہ ہماري تدبير مظبوط ہے" - درحقيقت ان کے لئے بدترين عذاب ، يہي آسائشيں اور امکانات ہيں کہ جسے وہ نعمت سمجھ رہے ہيں وہ دھيرے دھيرے عذاب الہي کي جانب بڑھ رہے ہيں ليکن اس طرف متوجہ نہيں ہيں -

گويندہ : کلمہ استدراج ايک قرآني اصطلاح ہے جس کے معني گناہگاروں کو نعمتيں دے کر تدريجا غفلت ميں ڈال دينا يا انہيں ڈھيل دينا ہے -اس طرح سے کہ خدا کي مادي نعمتوں ميں ڈوبا ہوا انسان ، خدا ، معنوي کمالات ، استغفار اور شکر کي نعمت سے محروم ہوجاتا ہے اور زيادہ سے زيادہ گناہ ميں مبتلا ہوتا جاتا ہے -

لغت ميں ”‌استدراج“ کے دومعاني ہيں: ايک يہ کہ کسي چيز کو تدريجاً اور آہستہ آہستہ لينا (کيونکہ يہ لفظ ”‌درجہ“ سے اخذ کيا ہے ) اسي طرح جب کسي چيز کو تدريجاً اور مرحلہ بہ مرحلہ ليں يا گرفتار کريں تو اس عمل کو استدراج کہتے ہيں) استدراج کا دوسرا معني ہے لپيٹنا اور تہ کرنا - جس طرح کاغذوں کے ايک پلندے کو لپيٹتے ہيں (يہ دونوں معاني ايک کلي اور جامع مفہوم ”‌انجام تدريجي“) کي ہي ترجماني کرتے ہيں -

حديث ميں ہے کہ شيعب پيغمبر (ع) کے زمانے ميں ايک کافر اور فاسق و فاجر شخص ان کے حضور ميں آيا اور کہا کہ شعيب تم نے جس عمل  کو بھي گناہ کا نام ديا ہے ہم ، ان سب کے مرتکب ہوئے ہيں ليکن ہم پر تو کوئي بلا نازل نہيں ہوئي اس سے تو پتہ چلتا ہےکہ خدا ہميں بہت چاہتا ہے - شعيب پيغمبر نے خدا سے کہا کہ يہ بندہ تواس طرح سے کہہ رہا ہے - تو جناب شعيب (ع) کو وحي ہوئي کہ اس سے کہہ دو کہ ہم جو اس کے کسي کام ميں کوئي مشکل پيدا نہيں کررہے ہيں تو يہي بدترين بلاہے  کيوں کہ ہم نہيں چاہتے کہ وہ ہم سے توبہ کرسکے اور ہمارا شکر کرسکے- ”‌ ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

گناہوں سے توبہ ميں جلدي کريں

عقل خدا کي لازوال نعمت