• صارفین کی تعداد :
  • 4488
  • 2/18/2014
  • تاريخ :

حرم امام رضا عليہ السلام ميں لا‏ئبريري ( حصّہ سوّم )

شہادت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء

امام رضا عليہ السلام کے حرم کي انقلاب اسلامي ايران کي کاميابي کے بعد چھ گنا توسيع کي گئي ہے- اتني توسيع کے باوجود حرم ميں زائرين کا اتنا اژدہام ہوتا ہے کہ جگہ ملنا مشکل ہوتي ہے- سال کے بارہ ماہ امام رضا عليہ السلام کي ضريح کے اطراف ميں ہزاروں لوگ موجود پائے جاتے ہيں، ضريح کو ہاتھ لگانا ايک مشکل کام ہوتا ہے-

آستان قدس رضوي کے ادارہ رضوي آفرينشہائے ہنري کے اہتمام سے قرآن کي تذہيب کا کام جاري ہے، اسي سلسلہ ميں قرآني تذہيب کا دو سالہ فيسٹيول بھي منعقد کيا گيا، اس بارے ميں فرمائيں-؟

ڈاکٹر حيدر رضا ضابط: امام رضا عليہ السلام کے حرم ميں موجود کتابخانہ عالم اسلام کا قديم ترين کتب خانہ ہے- اس کتابخانے کي ايک ہزار سالہ تاريخ ہے- اب تک اس ميں پچہتر ہزار نادر قلمي نسخے جن ميں اسلامي علوم عربي، فارسي، اردو اور ديگر زبانوں ميں موجود ہے اکٹھے کئے گئے ہيں- ان کو محفوظ کيا جا رہا ہے، مائيکروفلم اور ديگر جديد ٹيکنالوجي کو استعمال کرتے ہوئے ان اسلام فن کے شہ پاروں کو محفوظ کيا جا رہا ہے اور ان کے دوبارہ احياء کے لئے ايک خاص ادارہ قائم کيا گيا ہے، جسے مرکز ہائے افرينشہائے ہنري کہا جاتا ہے- اس مرکز ميں تذہيب اور ہنر کے ان شہ پاروں کو کہ جن کي اسلامي تاريخ ميں نظير نہيں ملتي، ان کا جديد اسلامي خطوط کے مطابق احياء کيا جا رہا ہے- اس طرح ہزاروں کي تعداد ميں مرکز ہنري نئے قرآن مجيد کي کتابت و تذہيب ہوئي ہے- اس کام کو ديکھ کر يوں معلوم ہوتا ہے کہ يہ کام سات آٹھ سو سال پرانا کام ہے ليکن يہ کام آج کے دور ميں مشہد مقدس کے مرکز ہنري ميں ہوا ہے-

ہم ديکھتے ہيں کہ انقلاب اسلامي ايران کي کاميابي کے بعد حرم مطہر رضوي ميں رواق دار الحجہ کي ديدہ زيب تعمير ہوئي جو اسلامي ہنر کي پرشکوہ تجلي ہے، اس حوالہ سے ہمارے قارئين کو بتائيں-؟

ڈاکٹر حيدر رضا ضابط: انقلاب اسلامي ايران سے قبل امام رضا (ع) کے حرم ميں چھ رواق (يعني سر پوشيدہ ہال اور صحن جس پر چھت نہ ہو) تھے- ليکن آج رواق کي تعداد اٹھائيس ہوچکي ہے- پہلے ہمارے پاس دو صحن تھے، آج صحنوں کي تعداد بارہ ہوچکي ہے- يعني امام رضا (ع) کے حرم مبارک ميں چھ گنا توسيع ہوئي ہے- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

استاد محمد جعفر طبسي ، ابنا نيوز ايجنسي کے ساتھ

علويوں کے ساتھ عباسيوں کا رويہ