• صارفین کی تعداد :
  • 600
  • 2/10/2014
  • تاريخ :

ايران کے اسلامي انقلاب کے خلاف  تکفيري سازش   ( حصّہ دوّم )

تکفیری عناصر کی حققیت

اسلامي جمہوريۂ ايران اور اسلامي بيداري سے مقابلے کےلئے، امريکہ اور اس کے علاقائي اتحاديوں نے تکفيري گروہوں کي حمايت شروع کي ہے - اس درميان سعودي عرب ، منحرف اور متعصب فرقۂ وہابيت کے ايک اہم مرکز کے طور پر ان گروہوں کي مالي حمايت کر رہا ہے - سعودي عرب کي جانب سے پاکستان ميں تکفيري گروہ لشکر جھنگوي کي آشکارا حمايت ، روس کے شہر داغستان ميں تکفيري گروہوں کي حمايت ، عراق ميں داعش تکفيري گروہ کي حمايت ، شام ميں النصرہ تکفيريوں کي حمايت اور لبنان ميں عبداللہ عزام تکفيري دھڑے کي حمايت ، ان تکفيري گروہوں کے لئے انجام پارہي ہيں - مغرب کي اگرچہ يہ کوشش ہے کہ خودکو تکفيري گروہوں کا مخالف ظاہر کرے ليکن مغربي حکومتوں کي کارکردگي ان کے دعووں کے برخلاف ہے - يہ حکومتيں سعودي عرب کي بھرپور حمايت کرتي ہيں اور عالم اسلام ميں اس کے محوري کردار کي خواہاں ہيں کيوں کہ سعودي عرب ميں جو اسلام حاکم ہے ، امريکہ اور اس کے اتحاديوں اور صہيوني حکومت کي پاليسيوں سے ہم آہنگ ہے - سعودي عرب اور اس پر حکمراں وہابي ٹولہ القاعدہ جيسے دہشت گرد گروہوں کي مختلف صورتوں ميں مالي اور اسلحہ جاتي مدد کر رہا ہے - تکفيريوں نے عالم اسلام ميں قائم اتحاد کو نشانہ بنايا ہے - اگرچہ حاليہ برسوں ميں کسي بھي امريکي اوراسرائيلي ہدف کو نقصان نہيں پہنچايا ہے -

 اگر ہم غور کريں تو يہ سمجھ سکتے ہيں کہ عرب ملکوں ميں رونما ہونے والے انقلابات اوراسلامي بيداري کي تحريکوں ميں شدت آنے کے ساتھ ہي عالم اسلام ميں دہشت گردانہ کاروائيوں ميں بھي تيزي آئي ہے - اور اگر ہم ان ملکوں کا جائزہ ليں ، جہاں اسلامي بيداري کے سائے ميں عوام ، ظالم اور ڈکٹير حکومتوں کے شر سے محفوظ ہو گئے تو اس وقت انہيں تکفيريوں کا سامنا ہے - اسي سلسلےميں رہبر انقلاب اسلامي حضرت آيۃ اللہ العظمي خامنہ اي ، تکفيري گروہ کو عالم اسلام کے لئے عظيم خطرہ بتاتے ہوئے فرماتے ہيں افسوس کہ بعض مسلم حکومتيں تکفيري گروہوں کي حمايت کے نتائج سے غافل ہيں اور وہ نہيں سمجھتيں کہ يہ آگ ان سب کو اپني لپيٹ ميں لے ليگي - آپ نے اسلامي ملکوں ميں استکباري حکومتوں کي جانب سے تکفيري دہشتگردوں کيلئے جاري ہمہ جہتي حمايت کي طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمايا کہ ان تکفيري گروہوں کے مقابلے ميں، جو عالم اسلام کيلئے ايک بڑا خطرہ ہيں، مکمل ہوشياري کي ضرورت ہے- رہبر انقلاب اسلامي نے بيداري و آگاہي کو مسلمانوں کي سعادت کا واحد ذريعہ قرار ديتے ہوئے فرمايا کہ اسلامي ملکوں کے بے نظير وسيع‏ قدرتي ذرائع، ممتاز جغرافيائي پوزيشن، گرانقدر تاريخي ميراث اور اقتصادي و معاشي ذرائع، اتحاد و وحدت اور يکجہتي کے زير سايہ مسلمانوں کو عزّت و احترام اور ارتقاء کي منازل پر پہنچا سکتے ہيں-آپ نے فرمايا کہ مستکبروں کي کوشش ہےکہ اسلامي بيداري کو متاثر کرتے ہوئے مختلف اسلامي مذاہب کے پيروکاروں کو ايک دوسرے سے  دست بگريباں کر ديں اور اسلام کے چہرے کو رائے عامہ ميں خراب بگاڑ کر پيش کريں - ( جاري ہے )

 

بشکریہ اردو ریڈیو تھران


متعلقہ تحریریں:

وبابي طاقتيں اور شيعوں کا قتل

پاکستان پر مسلّط جنگ