• صارفین کی تعداد :
  • 9107
  • 2/6/2014
  • تاريخ :

ايران کا اسلامي انقلاب اميد کي کرن ( حصّہ دوّم )

ایران کا اسلامی انقلاب امید کی کرن ( حصّہ دوّم )

ايران ميں جنم لينے والي اسلامي تحريک نے مسلمانان عالم کے درميان اس سوچ کو جنم ديا کہ اس سے قبل جاري اسلامي تحريکوں کي جانب سے پيش کردہ اہداف سے کہيں زيادہ بڑھ کر بڑے اہداف کے حصول کو ممکن بنايا جا سکتا ہے جن ميں سے ايک "اسلام کے سنہري دور" کا احياء اور عظيم اسلامي تہذيب و تمدن کي نشاہ ثانيہ ہے- شايد انقلاب اسلامي ايران کي جانب سے اسي عقيدے پر پختہ يقين اس بات کا باعث بنا کہ عالم اسلام ميں جاري دوسري اسلامي تحريکيں انقلاب اسلامي ايران کي جانب متوجہ ہو کر اس سے متاثر ہو سکيں- لہذا ہم کہ سکتے ہيں کہ عالم اسلام اور حتي زيادہ بڑي سطح پر يعني پوري دنيا کے مستضعفين پر انقلاب اسلامي ايران کا سب سے بڑا اثر نظرياتي اور فکري پہلو سے ظاہر ہوا ہے- لہذا ہم مشاہدہ کرتے ہيں کہ ايران ميں اسلامي انقلاب کي کاميابي کے فورا بعد ہي عالم اسلام ميں بيداري کي ايک عظيم لہر معرض وجود ميں آئي جس نے نہ صرف مسلمانان عالم بلکہ مستضعفين جہان کو بھي اپني لپيٹ ميں لے ليا اور ان ميں انقلابي جوش و جذبہ پيدا کرتے ہوئے انہيں پوري طرح متحرک اور فعال کر ديا- اس کي بنيادي وجہ يہ تھي کہ انقلاب اسلامي ايران کے باني حضرت امام خميني رحمہ اللہ عليہ کے مخاطبين صرف ايراني مسلمان نہيں تھے بلکہ وہ تمام مستضعفين جہان کو مخاطب قرار ديتے تھے- وہ ہميشہ اس بات پر تاکيد کرتے ہوئے نظر آتے تھے کہ ايران ميں جنم لينے والا اسلامي انقلاب پوري دنيا ميں مستکبرين کے مقابلے ميں مستضعفين کے قيام کي صورت ميں پھيل جانا چاہئے- رہبر کبير انقلاب اسلامي ايران حضرت امام خميني رحمہ اللہ عليہ ہميشہ فرمايا کرتے تھے کہ اسلامي جمہوريہ ايران دنيا کي تمام مستضعف اقوام کيلئے ايک رول ماڈل اور ان کي آزادي اور خودمختاري کا نقطہ آغاز ہے- دنيا کے ہر کونے ميں مسلمان اٹھ کھڑے ہوں بلکہ دنيا کے تمام مستضعفين اٹھ کھڑے ہوں- خدا کا وعدہ ہے کہ مستضعفين جہان ايک نہ ايک دن دنيا کے وارث قرار پائيں گے- حکومت مستضعفين کا حق ہے اور مستضعفين کي وراثت ہے- مستکبرين غاصب ہيں اور انہيں ميدان سے نکال باہر کرنے کي ضرورت ہے-   ( جاري  ہے )


متعلقہ تحریریں:

اسلامي انقلاب کي کاميابياں

اسلامي انقلاب کے خواتين پر اثرات