• صارفین کی تعداد :
  • 10930
  • 2/3/2014
  • تاريخ :

انقلاب اسلامي ايران اور خواتين   ( حصّہ ششم )

خانداني اقدار کي تباہي

اسلام کي نظر ميں عورت اور مرد خلقت کے لحاظ سے منفرد خصوصيات کے حامل ہيں ليکن انساني اور سماجي حقوق، معنوي اقدار اور روحاني مدارج کو طے کرنے کے لحاظ سے کوئي فرق نہيں رکھتے- اسلامي جمہوري نظام اور حضرت امام خميني رحمۃ اللہ عليہ کے نام کي برکت سے عورت کے بارے ميں اچھے کام انجام پائے ہيں -

آجکل پردہ مسلمان عورت کي نشاني ہے- دنيا ميں ہر عورت جو پردے کے ساتھ سامنے آتي ہے تو اس کا پردہ گويا اسلام کا پرچم ہے- وہ يہ دکھاتي ہے کہ اس نے مغربي زندگي کو چھوڑديا ہے-وہ مغربي برہنگي کو پسند نہيں کرتي ہے- وہ اپني آزادي کو صحيح معنوں ميں اپنانا چاہتي ہے- اسي وجہ سے مغربي لوگ اسلامي پردے سے گھبراتے ہيں- ايراني چادر يا پردہ، انقلابي عورت کے وقار کا مظہر ہے-

اسلامي جمہوريہ ايران کے عظيم رہبر حضرت آيت اللہ خامنہ اي فرماتے ہيں:"اسلام نے عورت پر پردے کو فرض قرار ديا ہے کيونکہ وہ ايک آزاد انسان ہے اور اس طرح وہ پاک و صحت مند ماحول ميں اپنے معاشرتي فرائض کو انجام دے سکتي ہے-"

آج کي ايراني خواتين کے لئے مثالي نمونہ مغربي عورت نہيں بلکہ سب سے بہترين آئيڈيل حضرت فاطمہ زہرا(س) ہيں-يہ بات قابل ذکر ہے کہ ايران کي نصف آبادي خواتين پر مشتمل ہے- اسلامي جمہوريہ ايران ميں  پچھلے تينتيس سال سے خواتين کي طرف جتني توجہ دي گئي ہے اور ان کے مسائل کے مطالعات اور ان کے حل کے بارے ميں جتني تجاويز پيش کي گئي ہيں اور اس موضوع پر جتنا کام ہوا ہے اس کا اس سرزمين کے کسي تاريخي دور سے ہرگز موازنہ نہيں کيا جا سکتا ہے- اسلامي انقلاب جو ثقافتي اور تہذيبي تبديلي لايا ہے اس کے نتيجے ميں خواتين کي اہميت اور عظمت کے بارے ميں لوگوں کے خيالات يکسر تبديل ہوگئے- حکومت اور ملک کي مختلف تنظيموں اور اداروں نے خواتين کے حقوق کے حامي بن کر اسي راستے ميں اہم قدم اٹھائے ہيں-

اسلامي انقلاب کي کاميابي کے بعد خواتين کي سرگرميوں کو وسعت دينے کے لئے علمي، سياسي، اجتماعي اور ثقافتي ميدانوں ميں سرکاري اور نجي اقدامات انجام ديئے گئے جن کي چند مثاليں ذيل ہيں:

سرکاري وزارتوں ميں خواتين کے مسائل کے جائزہ کے ليے ايک يونٹ جس کا نام "بسيج خواہران" ہے(خواتين کے اجتماعي اور ثقافتي رضاکار کميٹي جو ثقافتي انقلاب کے اعلي سنٹرل کميٹي سے وابستہ ہے-)- تمام صوبوں ميں خواتين کے مسائل سے متعلق کميٹياں،  صدارتي دفتر ميں خواتين سے متعلق آفيس، وزارت خارجہ ميں خواتين کا بين الاقوامي آفيس، اعلي عدالت ميں خواتين کے مسائل کا جائزہ لينے کے لئے خصوصي يونٹ، قومي اسمبلي ميں خواتين سے متعلق ايک مرکزي يونٹ يہاں خواتين کي صورتحال  کو بہتر بنانے کے لئے اگر قانون ميں تبديلي کي ضرورت ہو تو اس کا جائزہ ليا جاتا ہے، خواتين کے مذہبي مراکز، ايران کي اسلامي جمہوريہ ميں "جمعيت زنان" کي تشکيل، خواتين کے مسائل سے متعلق مطالعات اور تحقيقات کا مرکز، خاندان کو محفوظ رکھنے کے لئے عدالتوں کي تشکيل، ديہاتي اور بے سہارا خواتين کے مسائل حل کرنے کے مراکز-

ان کے علاوہ بہت سے ايسے مراکز ہيں جہاں نہ صرف خواتين کے مسائل کا جائزہ ليا جاتا ہے بلکہ خود خواتين ہي ان کو چلاتي ہيں- اسي طرح خواتين کي سياسي اور علمي سرگرمياں ہيں:( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

اسلام اور مقام زن

مسلمان عورت کي عزّت