• صارفین کی تعداد :
  • 8040
  • 1/26/2014
  • تاريخ :

انقلاب اسلامي ايران اور خواتين

زن

عورت انساني معاشرے کا ايک لازمي اور ضروري حصّہ ہے جو معاشرے کي تشکيل اور بہتري ميں مرد کے شانہ بشانہ کھڑي ہے - معاشرے کي ترقي کے ليۓ عورت اور مرد دونوں کو اپني صلاحيتوں کو بروۓ کار لانا پڑتا ہے جس کے بعد معاشرہ ايک فلاحي راستے کي طرف گامزن ہوتا ہے - اس سارے عمل ميں عورت کا کردار کسي سے بھي ڈھکا چھپا نہيں ہے اور اس کي صلاحيتوں سے بھي جديد دور ميں کسي کو انکار نہيں ہے -

عورت اپنے ہر رنگ اور روپ ميں کائنات کا حسن اور قدرت کا قيمتي تحفہ ہے- وہ ماں، بہن، بيوي اور بيٹي کے روپ ميں کائنات کا ايسا رنگ ہے جس کے بغير کائنات انساني کي ہر شے پھيکي اور ماند ہے- اللہ تعاليٰ نے مرد کو اس کا محافظ اور سائبان بنايا ہے مگر عورت اپني ذات ميں ايک تنآور درخت کي مانند ہے جو طوفاني ہوۆں اور جھکڑوں کي زد ميں آ کر بھي نہايت ہمت اور حوصلے سے ثابت قدم رہتي ہے اور ہر قسم کے سرد و گرم حالات کا دليري سے مقابلہ کرتي ہے اسي عزم و ہمت، حوصلے اور استقامت کي بنياد پر اللہ تعاليٰ نے جنت کو اس کے قدموں تلے بچھاديا- عورت وہ ذات ہے جس کے وجود سے کم و بيش ايک لاکھ چوبيس ہزار انبياء کرام عليہ السلام نے جنم ليا اور انسانيت کے لئے رشد و ہدايت کا پيغام لے کر آئے- عورت وہ ہے جو حضرت آدم عليہ السلام کے لئے تخليق کي گئي ہے جس سے نسل انساني وجود ميں آئي- عورت عظيم بيٹي، قابل رشک بيوي اور قابل فخر ماں کا کردار ادا کرتے ہوئے سيدہ کائنات حضرت فاطمۃ الزہراء ( س)  کي صورت ميں نظر آئي جس کے لئے آقائے دو جہاں حضرت محمد مصطفي صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اپني نشست مبارک سے کھڑے ہوکر استقبال کيا کرتے تھے- عورت جب مرد کي شريک حيات کے طور پر سامنے آئي تو مرد کے نصف ايمان کي محاف1 جلوت و خلوت کي امين، دکھ سکھ کي ساتھي، سراپائے عزم و وفا پيغمبروں اور وليوں کو جنم دينے والي خدا کي وہ تخليق ہے جو کل انسانيت کے لئے قابل احترام اور لائق تحسين ہے- ( جاري ہے )

 


متعلقہ تحریریں:

اسلام اور مقام زن

مسلمان عورت کي عزّت