• صارفین کی تعداد :
  • 4141
  • 1/31/2014
  • تاريخ :

کيا توبہ  کے ليۓ شرائط  ہيں ؟

کیا توبہ  کے لیۓ شرائط  ہیں ؟

توبہ کي کوئي شرط نہيں ہے ! (حصہ اول)

گناہوں سے توبہ ميں جلدي کريں (حصہ دوم)

انسان کو توبہ کا وقت ملتا ہے (حصہ سوم)

گناہ سے کيسے بخشش حاصل کي جاۓ (حصہ چہارم)

اب يہ بھي ممکن ہے کہ يہ سوال آپ کے ذہن ميں آۓ کہ اگر توبہ کي کوئي بھي شرط نہيں ہے تو کيسے قرآن ميں توبہ کي شرائط کے متعلق آيات موجود ہيں - مثال کے طور پر سورہ نساء کي آيت نمبر 17 اور 18 ميں خدا تعالي کي طرف سے توبہ کي قبوليّت کے ليۓ چار شرائط کا ذکر ہوا ہے -

إِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّهِ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السُّوَءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوبُونَ مِن قَرِيبٍ فَأُوْلَـئِكَ يَتُوبُ اللّهُ عَلَيْهِمْ وَكَانَ اللّهُ عَلِيماً حَكِيماً  ( سورہ نساء آيت نمبر 17 )

ترجمہ : اللہ کے ذمے صرف ان لوگوں کي توبہ (قبول کرنا) ہے جو ناداني ميں گناہ کا ارتکاب کربيٹھتے ہيںپھر جلد ہي توبہ کر ليتے ہيں، اللہ ايسے لوگوں کي توبہ قبول کرتا ہے اور اللہ بڑا دانا، حکمت والا ہے -

 اسي طرح دوسري آيت ميں ارشاد باري تعالي ہے کہ

وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِينَ يَعْمَلُونَ السَّيِّئَاتِ حَتَّى إِذَا حَضَرَ أَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ إِنِّي تُبْتُ الآنَ وَلاَ الَّذِينَ يَمُوتُونَ وَهُمْ كُفَّارٌ أُوْلَـئِكَ أَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا  ( سورہ نساء آيت نمبر 18 )

ترجمہ : اور ايسے لوگوں کي توبہ (حقيقت ميں توبہ ہي) نہيں جو برے کاموں کا ارتکاب کرتے رہتے ہيں يہاں تک کہ ان ميں سے کسي کي موت کا وقت آپہنچتا ہے تو وہ کہ اٹھتا ہے :اب ميںنے توبہ کي اور نہ ہي ان لوگوں کي (توبہ قبول ہے ) جو مرتے دم تک کافر رہتے ہيں، ايسے لوگوں کے ليے ہم نے دردناک عذاب تيار کر رکھا ہے -

ان آيات ميں ظاہري طور پر توبہ کي قبوليت کے ليۓ چار شرائط کا ذکر ہوا ہے -

1- گناہ جہالت اور ناداني کي وجہ سے ہو

2-  توبہ ميں دير نہ کرے

3- موت سے پہلے توبہ  کرے

4- توبہ  موت کے بعد نہ ہو

اس سوال کا جواب مختصر طور پر  يہ ہے کہ ظاہري طور پر ان دو آيات سے جو بات سامنے آتي ہے ، اس پر مزيد بحث کي ضرورت ہے اور ان آيات کي تفسير اور وضاحت کي ضرورت ہے - ان آيات ميں کچھ اساسي نکات کي طرف اشارہ کيا  گيا ہے جن کي وضاحت کي جاني چاہيۓ -

ان آيات  سے ظاہري طور پر ہم جو مطلب اخذ کرتے ہيں وہ ظاہري طور پر دوسري متعدد  آيات سے مطابقت نہيں رکھتا ہے اور وہ گناہوں کا سامنا کرنے کے معاملے ميں  پيغمبر صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم  اور آئمہ اطہار  عليھم السلام کي سيرت سے بھي مطابقت نہيں رکھتا ہے - ہمارا  عظيم دين ، دين اسلام اس بات کا مدعي ہے کہ توبہ کے معاملے ميں کوئي بند گلي  موجود نہيں ہے - توبہ کے دروازے ہر وقت کھلے ہيں -

 

ترجمہ: سید اسداللہ ارسلان


متعلقہ تحریریں:

خالص عبادت کيسي ہوني چاہيۓ ؟ 

غصّے پر قابو پانا سيکھيں