• صارفین کی تعداد :
  • 615
  • 1/23/2014
  • تاريخ :

شامي جنگي بحران کے حل ميں ايراني مدد

شامی جنگی بحران کے حل میں ایرانی مدد

اسلامي جمہوريہ ايران کے وزير خارجہ محمد جواد ظريف نے اقوام متحدہ کي جانب سے ايران کو دي گئي دعوت واپس لئے جانے پر افسوس کا اظہار کيا ہے- واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے سيکريٹري جنرل بان کي مون نے جنيوا ٹو کانفرنس ميں ايران کو شرکت کي جو دعوت دي تھي وہ واپس لے لي ہے- محمد جواد ظريف نے ترکمنستان کے دارالحکومت عشق آباد ميں صحافيوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ يہ اقدام، اقوام متحدہ کے سيکرٹيري جنرل کے شايان شان نہيں ہے- انہوں نے کہا کہ بان کي مون نے گذشتہ ہفتے ان سے رابطے کئے تھے جس ميں انہوں نے تاکيد کے ساتھ کہا تھا کہ ايران کسي طرح کي پيشگي شرط قبول نہيں کرے گا- محمد جواد ظريف نے کہا کہ بان کي مون نے دباۆ ميں آکر ايران کي دعوت واپس لي ہے- دراين اثنا ايران کي وزارت خارجہ کي ترجمان مرضيہ افخم نے کہا ہے کہ اسلامي جمہوريہ ايران کبھي بھي جنيوا ٹو کانفرنس ميں شرکت کا خواہشمند نہيں رہا ہے اور ہم نے اس موقف کا بڑي وضاحت کے ساتھ ہميشہ اعلان بھي کيا ہے- مرضيہ افخم نے پريس بريفنگ ميں بان کي مون کي جانب سے ايران کي دعوت کو واپس لينے کےبارے ميں کہا کہ انہوں نے يہ اقدام دباۆ ميں کيا ہے اور يہ قابل افسوس ہے- ادھر اقوام متحدہ ميں روس کے نمائندے نے بھي بان کي مون کے اس اقدام پر تنقيد اور شديد افسوس کا اظہار کيا ہے-

شام خانہ جنگي کا شکار ہے يا عالمي دہشتگردي کا؟ يہ بات اب راز نہيں رہي ہے- مارچ 2011ء ميں شامي حکومت کے خلاف مظاہرے شروع ہوئے اور جون 2011ء ميں ان مظاہروں نے باقاعدہ جنگ کي شکل اختيار کر لي- حزبِ مخالف والے اپنے عالمي پشت بانوں کي طاقت سے سرشار ہيں اور بشار الاسد کي اقتدار سے عليحدگي سے کم کسي بات پہ راضي نہيں-

صدر بشارکے حامي اور مخالفين کے درميان شروع ہونے والي طاقت کے اس اظہار نے باقاعدہ تشدد کا روپ اختيار کر ليا، خطے ميں اپنے استعماري مقاصد رکھنے والي عالمي طاقتيں اس لمحے کا بےچيني سے انتظار کر رہي تھيں- امريکہ اور اسرائيل خطے ميں موجود اپنے مقدس حواريوں کے ذريعے متحرک ہوئے اور حالات کو اس نہج تک لے آئے ہيں کہ شام خون ميں لت پت ہے جس طرح شام ميں عالمي طاقتيں کود پڑيں يہ نہ تو شامي عوام سے ہمدردي ہے اور نہ ہي انساني حقوق کا مسئلہ، بلکہ يہ اس اسرائيل کو مستحکم کرنے کي عالمي آرزو ہے جسے عربوں سے اب سوائے شام کے کسي اور سے کوئي خطرہ نہيں- گولان کي چوٹياں آج بھي گواہي دے رہي ہيں کہ شام کو کمزور کيے بغير اور يہاں امريکہ نواز حکومت لائے بغير خطے ميں اسرائيل کے طاقتور کردار کي ضمانت نہيں دي جا سکتي-  ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

بحران شام کے حل کے حوالے سے ايران کي جاري کوششيں

سعودي عرب کي فتوي ساز فيکٹرياں اور غريب مسلمان