• صارفین کی تعداد :
  • 2208
  • 1/24/2014
  • تاريخ :

اردو ادب ميں مرثيہ نگاري  ( حصّہ دوّم )

کربلا کی بلندی

اہل ذوق يہ اچھي طرح سے جانتے ہيں کہ اردو ادب کي ايک اپني دنيا ہے اور اس کي وسعت کے بارے ميں بھي کسي کو شک و شبہ نہيں ہے - اردو زبان کي اپني ايک خوبصورت دنيا ہے- يہي وجہ ہے کہ اردو زبان کا ہر شعبہ سخن علمي و فني حدود و قيود کا پابند ہے- بعض لوگ زبان داني کو محض قواعدِ انشاء پردازي کے رٹنے اور محاوروں کے ازبر کرنے تک محدود سمجھتے ہيں، چنانچہ وہ بحر ادب ميں غوطہ زن تو ہو جاتے ہيں ليکن ساحل مقصود تک نہيں پہنچ پاتے- اپنے فروغ اور ارتقاء کے سفر ميں اردو زبان نے کئي نشيب و فراز ديکھے ہيں اور اردو ادب نے کئي زينے طے کئے ہيں- جہاں تک اردو ميں مرثيہ نگاري کا تعلق ہے تو ہميں يہ معلوم ہونا چاہيئے کہ مرثيہ نگاري فقط اردو زبان اور ہندوستان سے مخصوص نہيں ہے بلکہ دنيا کے تمام ممالک اور تمام زبانوں ميں مرثيہ نگاري موجود ہے اور اپني ہيّت و ماہيت کے اعتبار سے مرثيہ نگاري کا تعلق صنف شعر سے ہے-

مرثيہ اردو شاعري کي عام اصناف کا احاطہ کرتا ہے- اس ميں غزل کا تغزل، نظم کي رواني، داستان کا تسلسل، حمد و نعت کے مقدس پہلو کے علاوہ رزميہ کيفيت اور نثر ميں ڈرامے کي خصوصيات يا يوں کہہ ليجيے کہ منظوم ڈرامے کي اہم خصوصيت کشمکش کا عنصر بھي پايا جاتا ہے- يعني مرثيے ميں جذبات نگاري، منظرکشي، مکالمہ، کردار نگاري اور خير و شر کے درميان کشمکش کو بڑے موثر اور دلکش انداز ميں پيش کيا جاتا ہے- اس صنف سخن نے اردو ادب ميں رزميہ شاعري کي کمي کو نہ صرف پورا کيا بلکہ حد کمال تک پہنچا ديا- مرثيہ نگار شعرا ميں يوں تو کئي دکني شعرا کے نام بھي ليے جاتے ہيں ليکن دکن ميں مرثيے نے کوئي خاص مقام حاصل نہيں کيا، مرثيہ نے حقيقي ترقي شمالي ہند ميں کي، اہم نام ان ميں سودا کا ہے- مگر اس صنف کو مکمل اوج اور کمال انيس و دبير کے دور ميں حاصل ہوا- ہيئت کے اعتبار سے مسدس مرثيے کے ليے سب سے اہم قرار دي گئي-

اتنے معتبر شعرا نے مرثيہ کو مرحلہ وار اس مقام تک پہنچايا جس کو مزيد آگے بڑھانے ميں مير ببر علي، انيس اور مرزا دبير کي کاوشوں کو کبھي بھي فراموش نہيں کيا جاسکے گا- ليکن مرثيے کا آغاز سودا اور دبير سے قبل ہوچکا تھا کيونکہ سودا ہي نے مياں مسکين مرثيہ گو کا ذکر بھي کيا ہے- مير صاحب، مير حسن، مير خليق کے علاوہ مير ضمير کے نام مرثيہ نگاري ميں اہميت کے حامل ہيں- ( جاری ہے )


متعلقہ تحریریں:

قمه زني و عشق و عقل و معرفت

کربلا منزل بہ منزل