• صارفین کی تعداد :
  • 3060
  • 1/16/2014
  • تاريخ :

حضرت علي عليه السلام کي جنگيں   ( حصّہ دوّم )

حضرت علی علیه السلام کی جنگیں   ( حصّہ دوّم )

جي ہاں، امام عليہ السلام نے اپني حکومت کے زمانے ميں  تين بہت سخت جنگوں کا سامنا کيا جو تاريخ اسلام ميں  بے مثال ھيں:

پھلي جنگ ميں  عہد وپيمان توڑنے والے طلحہ وزبير نے ام المومنين کي شخصيت سے جو کہ رسول اسلام کي شخصيت کي طرح تھي اس سے فائدہ اٹھاتے ھوئے خونين جنگ کھڑي کي مگر شکست کھاني پڑي-

دوسري جنگ ميں  مد مقابل ابوسفيان کا بيٹا معاويہ تھا جس نے عثمان کے خون کا بدلہ لينے کا بہانہ بنايا اور سرکشي کے ذريعے مرکزي حکومت اور امام منصوص اور مہاجرين و انصار کے ذريعے چنے گئے خليفہ کي مخالفت کي اور حق وعدالت کے راستے سے منحرف ھوگيا-

تيسري جنگ ميں  جنگ کرنے والے امام عليہ السلام کے قديمي ساتھي تھے جن کي پيشانيوں پر عبادتوں کي کثرت سے سجدوں کے نشان تھے اور ان کي تلاوتوں کي آواز ہر طرف گونج رھي تھي اس گروہ سے جنگ پھلي دوجنگوں سے زيادہ مشکل تھي،مگر امام عليہ السلام نے کئي مھينہ صبر تحمل، تقريروں اور بااثر شخصيتوں کے بھيجنے کے بعد بھي جب ان کي اصلاح سے مايوس ھوگئے اور جب وہ لوگ اسلحوں کے ساتھ ميدان جنگ ميں  آئے تو ان کے ساتھ جنگ کي اور خود آپ کي تعبير کے مطابق ”‌ فتنہ کي آنکھ کو جڑ سے نکال ديا“ امام عليہ السلام کے علاوہ کسي کے اندر اتني ھمت نہ تھي کہ ان مقدس نما افراد کے ساتھ جنگ کرتا ليکن حضرت علي عليہ السلام کا اسلام کے ساتھ سابقہ اور پيغمبر اسلام(ص) کے زمانے ميں  جنگ کے ميدان ميں  آپ کي ہجرت اور ايثار اور پوري زندگي ميں  زہد و تقويٰ اور مناظرہ کے ميدان ميں  علم ودانش سے سرشار اور بہترين منطقي دليل وغيرہ جيسي صلاحيتوں نے آپ کو وہ قدرت عطا کي تھي کہ جس کے ذريعے آپ نے فساد کو جڑ سے اکھاڑديا-

تاريخ اسلام ميں  يہ تينوں گروہ ناکثين(عہد وپيمان توڑنے والے) اور قاسطين(ظالم و ستمگر اور حق سے دور ھونے والے) اور مارقين(گمراہ اور دين سے خارج ھونے والے افراد) کے نام سے مشھور ھيں-يہ تينوں نام پيغمبر کے زمانے ميں  رکھے گئے تھے خود رسول اسلام(ص) نے ان تينوں گروھوں کے اس طرح سے صفات بيان کئے تھے اور علي عليہ السلام اور دوسرے لوگوں سے کہا تھا کہ علي ان تينوں گروہ سے جنگ کريں گے، پيغمبر اسلام(ص) کا يہ کام خوني جنگ اور غيب کي خبر ديتاھے جسے اسلامي محدثين نے حديث کي کتابوں ميں  مختلف مناسبتوں سے ياد کيا ھے نمونہ کے طورپر يہاں ان ميں  سے ايک کو ذکر کررھے ھيں علي عليہ السلام فرماتے ھيں:

 ”‌ امرني رسول اللّٰہ(ص) بقتال الناکثين والقاسطين و المارقين“ [1]

 پيغمبر اسلام(ص) نے مجھے حکم ديا کہ ناکثين، قاسطين اور مارقين کے ساتھ جنگ کروں- ( جاري  ہے )


متعلقہ تحریریں:

اھل بيت (ع) ہمارے چراغ

مولا علي عليہ السلام کي بےمثال شخصيّت