• صارفین کی تعداد :
  • 747
  • 1/10/2014
  • تاريخ :

قم کے عوام سے رہبر انقلاب اسلامي کا خطاب

قم کے عوام سے رہبر انقلاب اسلامی کا خطاب

 رہبرانقلاب اسلامي نے امريکہ کو سب سے زيادہ انساني حقوق پامال کرنے والا ملک قرار ديا ہے- رہبرانقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي سيد علي خامنہ اي نے آج اھل قم کے قيام کي چھتيسيويں سالگرہ کے موقع پر قم کے ہزاروں شہريوں سے خطاب ميں فرمايا کہ امريکي حکام، اور امريکہ کے صحافتي و سياسي حلقے بدستور ملت ايران اور اسلامي نظام کے خلاف دشمنانہ بيانات دے رہے ہيں اور اس ميں انساني حقوق کے بارے ميں بھي بيانات شامل ہيں- آپ نے فرمايا کہ ہر کسي کو  انساني حقوق کے بارے ميں بات کرنے کا حق ہے ليکن امريکہ کو يہ حق حاصل نہيں ہے کيونکہ امريکي حکومت دنيا ميں سب سے زيادہ انساني حقوق پامال کرنے والي حکومت ہے- رہبرانقلاب اسلامي نے فرمايا کہ امريکي حکومت مسلسل فلسطينيوں منجملہ غزہ کے عوام کے خلاف صيہوني حکومت اور اسکي مجرمانہ کاروائيوں کي حمايت کرتي آرہي ہے- آپ نے فرمايا کہ صيہوني حکومت نے غزہ کے لئے کم سے کم غذائي اور طبي وسائل کي ترسيل پر پابندي لگارکھي ہے اور يہ ساري چيزيں صيہونيوں کے ہاتھوں جرائم اور انساني حقوق کي پامالي شمار ہوتي ہيں- رہبرانقلاب اسلامي نے پانچ برسوں قبل گوانتانامو جيل بند کرنے کے امريکي صدر کے وعدے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے خلاف امريکہ کے ڈرون حملے اور اس کے ديگر ہزاروں جرائم اور ساري دنيا ميں تشدد کے نئے نئے شيووں سے امريکہ کي حقيقي انسانيت سوز ماہيت سامنے آجاتي ہے- رہبرانقلاب اسلامي نے فرمايا کہ ايران يہ دعوي کرتا ہےکہ امريکہ اور بہت سي مغربي حکومتيں انساني حقوق کي پامالي کي ذمہ دار ہيں اور انہيں عالمي رائےعامہ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے گا- رہبرانقلاب اسلامي حضرت آيت اللہ العظمي خامنہ اي نے فرمايا کہ مغرب کے ساتھ ايران کے ايٹمي مذاکرات پابنديوں کي وجہ سے نہيں ہيں بلکہ اسلامي جمہوريہ ايران اپنے مفادات کے مطابق جب بھي صحيح سمجھےگا مذاکرات کرے گا اور موجودہ مذاکرات ميں ايک بار پھر ايران اور اسلام کے خلاف امريکہ کي دشمني اور ناتواني ساري دنيا پر واضح ہوچکي ہے- رہبرانقلاب اسلامي نے فرمايا کہ ہم نے پہلے بھي اعلان کيا تھا کہ اسلامي جمہوريہ ايران خاص مسائل ميں اس شيطان يعني امريکہ کے ساتھ اس کے شر سے بچنے اور مسائل حل کرنے کے لئے مذاکرات کرے گا- آپ نے ماضي پر غور کئےجانے اور مثبت اور منفي نکات سے سبق سيکھنے کي ضرورت پر تاکيد کي - آپ نے فرمايا کہ کسي کو يہ خيال نہيں کرنا چاہيے اسلامي انقلاب کے دشمن اب اپني دشمني سے دستبردار ہوگئے ہيں کيونکہ ممکن ہے دشمن پسپائي اختيار کرلے ليکن ہميں دشمن کي مسکراہٹ پر اس کا گرويدہ نہيں ہوجانا چاہيے- آپ نے فرمايا کہ نو جنوي انيس سو اٹہتر ميں اھل قم کے قيام کا ايک اہم پہلو بصيرت کے ساتھ راسخ ايمان پر بھروسہ کرکے سخت ترين حالات ميں اقدام و عمل کرنا تھا- انہوں نے کہاکہ اس واقعے کا اہم ترين سبق دشمن کے مقابل راسخ ايمان اور بصيرت سے مشکلات کو حل کرنا اور دشمن کي دشمني کو فراموش نہ کرنا بلکہ اپني داخلي توانائيوں پر بھروسہ کرکے دوسرے ملکوں سے اميديں نہ لگانا ہے-


متعلقہ تحریریں:

خطيب جمعہ تہران : امريکہ ملت ايران کا سب سے بڑا دشمن

ايران کا ايٹمي پروگرام قانون کے دائرے ميں