• صارفین کی تعداد :
  • 746
  • 1/4/2014
  • تاريخ :

پرويز مشرف بيرون ملک منتقل ہوسکتے ہيں

پرویز مشرف بیرون ملک منتقل ہوسکتے ہیں

پاکستان ميں اس بات کي قياس آرائياں کي جارہي ہيں کہ پرويز مشرف علاج و معالجے کيلئے بيرون ملک منتقل ہو سکتے ہيں- کہا جاتا ہے کہ عارضہ قلب ميں مبتلا ہونے کے بعد پرويز مشرف کے خلاف دائر مقدمہ اب شکوک و شبہات سے دوچار ہوگيا ہے -پرويز مشرف کے اسپتال ميں داخل ہونے کے عمل پر سفارت کاروں اور فوجي حکام کے درميان بھي اس بات کي قياس آرائياں جاري ہيں کہ سابق فوجي ڈکٹيٹر کي قسمت کا فيصلہ ايک معاہدے کے ذريعے کيا جائے گا جس ميں انہيں طبي سہولت دينے کے لئے بيرون ملک سفر کي اجازت دي جائے گي- يہ اقدام ممکنہ طور پر فوج اور نواز شريف انتظاميہ کے درميان کشيدگي کم کرسکتا ہے-مشرف کے قريبي ذرائع کا کہنا ہے کہ صورت حال يوں دکھائي ديتي ہے کہ پرويز مشرف علاج معالجے کے لئے سعودي عرب يا متحدہ عرب امارات جا سکتے ہيں جبکہ نواز شريف انتظاميہ کے ايک سنيئر وزير نے ان قياس آرائيوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف جلد مقدمہ کي سماعت ہو سکتي ہے-

پرويز مشرف راولپنڈي کے آرمڈ فورسز انسٹيٹيوٹ آف کارڈيالوجي اسپتال ميں زير علاج ہيں اس جگہ علاج کي سہولت لينے کے، پرويز مشرف کے فيصلے سے اب سياسي مخالفين مقدمے کي سماعت کے عمل ميں مداخلت کے الزامات لگا رہے ہيں- قابل ذکر ہے کہ گذشتہ اتوار کو پرويز مشرف نے کہا تھا کہ ان کے خلاف مقدمے پر پوري فوج پريشان ہے اگرچہ فوج کي طرف سے اس سلسلے ميں کوئي ردعمل سامنے نہيں آيا ہے تاہم سيکورٹي تجزيہ کار اس نقطہ نظر کي تصديق کرتے ہيں کہ اپنے سابق فوجي سربراہ کي ممکنہ عمر قيد کي سزا کے تناظر ميں فوج ناخوش ہے-


متعلقہ تحریریں:

لبنان ، بيروت دھماکے پر حزب اللہ کارد عمل

ہندوستان اور امريکہ کے درميان بڑھتي کشيدگي