• صارفین کی تعداد :
  • 3762
  • 1/9/2014
  • تاريخ :

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ دہم )

شہادت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء ( حصّہ دہم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء (حصّہ اوّل)

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ دوّم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ سوّم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ چہارم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ پنجم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ ششم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ ہفتم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ ہشتم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ نہم )

ابتدائے سلطنت مأمون سے انتہا تک ديکھيں تو اس نے اپنے تمام قريبي ساتھيوں کو آب تيغ سے سيراب کيا جبکہ انہيں قتل کرنے سے قبل ان کے ساتھ محبت کا اظہار بھي کرتا تھا- مأمون کے کون سے عادات و اطوار اس کو امام رضا عليہ السلام کے قتل سے روک سکتے تھے جبکہ اس نے سلطنت اور اقتدار پر قبضہ جمانے کي خاطر اپنے بھائي تک کو تہہ تيغ کيا تھا! اب اگر اقتدار ہي کي حفاظت کا مسئلہ امام رضا عليہ السلام کے قتل کا متقاضي ہو تو وہ کون سا عامل ہوسکتا ہے جو اس کو اس عمل سے روک سکے؛ کيا يہ بات معقول ہوگي کہ کوئي دعوي کرے کہ "مأمون امام رضا عليہ السلام کو اپنے سچے خدمتگزاروں اور حتي اپنے بھائي سے زيادہ دوست رکھتے تھے اور آپ (ع) مأمون کو سب سے زيادہ عزيز تھے؟

اب سوال يہ ہے کہ پھر مأمون امام عليہ السلام کي شہادت پر اتنا محزون و مغموم کيوں ہوا؟

اس سوال کا جواب بھي بالکل روشن ہے اور وہ يہ ہے کہ مأمون نہايت مکار اور عيار سياستدان تھا اور اس سے يہ توقع نہيں کي جاسکتي تھي کہ کسي کو قتل کرکے اس کي موت پر خوشي منائے-

کيا مأمون ہي نہيں تھا جس نے اپنے مخلص وزير فضل بن سہل کو قتل کيا اور پھر اس کے لئے عزاداري کا اہتمام کيا؟ (10) اس نے خود ہي کئي افراد کو مأمور کرکے انہيں فضل بن سہل کے قتل کي ہدايت کي تھي اور انہيں انعام و اکرام کا وعدہ ديا تھا چنانچہ وہ انہيں بخوبي جانتا تھا اور فضل کي قتل کے بعد ان سب کو گرفتار کيا اور لوگوں کے سامنے ان کا خون بہايا (کہا جاتا ہے کہ ان ميں سے ايک نے لوگوں کے سامنے مأمون سے کہا کہ "ہم نے فضل کو تمہارے حکم پر قتل کيا ہے اور اگر قاتل کو سزا ديني ہے تو يہ سزا تمہيں ملني چاہئے") بہر حال مأمون نے انہيں قتل کروايا اور ان کے سر قلم کرواکر فضل کے بھائي حسن بن سہل کے پاس بھجوائے- اور اپني لڑکي بھي حسن بن سہل سے بياہ دي- مگر جب اس نے ابن شکلہ کي شورش کچل دي تو حسن بن سہل کو بھي برطرف کرکے گھر بٹھا ديا- (11) ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

شہادت امام رضا عليہ السلام کے اہم نکات

امام رضا (عليہ السلام) کي زيارت کي فضيلت