• صارفین کی تعداد :
  • 2962
  • 1/2/2014
  • تاريخ :

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ سوّم )

شہادت امام رضا علیہ السلام کے بارے میں مختلف آراء ( حصّہ سوّم )

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء (حصّہ اوّل)

شہادت امام رضا عليہ السلام کے بارے ميں مختلف آراء ( حصّہ دوّم )

1- خلفاء کي اہل بيت عليہم السلام کي دشمني کا سبب يہ تھا کہ ان سب کو معلوم تھا کہ امت اسلامي پر حکمراني کا حق ائمہ طاہرين عليہم السلام کا ہے چنانچہ مختلف حيلوں بہانوں سے انہيں قتل کرکے اس حق کو پامال کيا کرتے تھے-

2- ائمۂ معصومين کبھي بھي حکام کي تأئيد نہيں کرتے تھے اور کبھي بھي ان کے کردار سے خوشنودي کا اظہار نہيں کرتے تھے-

3- ائمۂ طاہرين عليہم السلام اپنے طرز سلوک اور با اثر سماجي شخصيت کے حامل تھے اور معاشرے ميں ان کا بہت گہرا اثر و رسوخ تھا چنانچہ حکام ان کي طرف سے اپني حکومت و اقتدار کے لئے ہر وقت خطرہ محسوس کرتے تھے-

اب سوال يہ ہے کہ يہ حکام علماء اور فقہاء کي حمايت کيوں کرتے تھے اور وہ ان علماء کي سرپرستي کيوں کرتے تھے؟

اس سوال کا جواب يہ ہے:

1- اس طرح علماء ـ جو معاشرے کے آگاہ افراد تھے اور معاشرے ميں ان کو قدر کي نگاہ سے ديکھا جاتا تھا ـ حکام کے زير تسلط قرار پاتے تھے اور حکام انہيں حکومت کے مفاد کي حدود ميں رکھتے تھي-

2- تاريخ گواہ ہے کہ حکام ان ہي علماء کے ذريعے بہت سے مشکل منصوبوں کو عملي جامہ پہناتے تھے-

3- علماء کي سرپرستي کرکے عوام کو باورکراتے تھے کہ ان کے حکمران علم دوست ہيں اور علماء کي تکريم کرتے ہيں اور اس طرح وہ معاشروں کا اعتماد حاصل کيا کرتے تھے اور اہل بيت (ع) کے ساتھ اپني دشمني سے وجود ميں آنے والے سماجي بدظني کي تلافي بھي کيا کرتے تھے اور سادہ دل عوام ان کي اہل بيت دشمني کو نظرانداز کرجاتے تھے-

4- علماء کي تکريم کا سب سے بڑا سبب يہ تھا کہ حکام ان کو اپنے گرد جمع کرکے ائمۂ طاہرين عليہم السلام کا نوراني چہرہ عوام کي نظروں سے چھپا ديتے تھے تا کہ وہ ائمہ (ع) کو فراموش کرديں-

اور ہاں علماء کي تکريم کا سبب ہرگز يہ نہ تھا کہ حکام کسي خاص مذہب سے تعلق رکھتے تھے ان کا مذہب تو اقتدار تھا اور حکام کي طرف سے علماء کي تکريم و تعظيم بھي غيرمشروط نہيں تھي بلکہ ان کي حمايت اس وقت تک جاري رہتي تھي جب تک وہ متعينہ حدود ميں رہ کر سرکاري مقاصد کے حصول ميں معاون رہتے تھے اور جب ان کا کردار حکومت کے متعينہ سياسي اہداف سے متصادم ہو جاتي تو وہي حکام ان ہي علماء کو سزائيں بھي ديتے تھے يہاں تک کہ بعض اکابرين علماء اہل سنت جيلوں ميں ہي انتقال کرگئے- چنانچہ علم اور عالم متعينہ سرکاري اہداف کے دائرے ميں محترم تھے- ( جاري ہے )


متعلقہ تحریریں:

امام رضا عليہ السلام  کي دعائيں نماز اور تعقيباتِ نماز کے متعلق

نمازِ وتر کي قنوت ميں امام رضا عليہ السلام کي دعا