• صارفین کی تعداد :
  • 2867
  • 1/26/2014
  • تاريخ :

يوٹوپيا اور اسلامي مدينۂ فاضلہ

یوٹوپیا اور اسلامی مدینۂ فاضلہ 2

پرسکون زندگي کي آرزو بني نوع انسان کي خلقت کے وقت سے اس کے ساتھ ہے اور انسان کبھي بھي اس فکر و آرزو سے الگ نہيں ہوسکا ہے اور ہر زمانے کے دانشوروں نے اس کو بيان کرنے کے لئے الفاظ کے سانچے ترتيب ديئے ہيں اور بعض نے اس کو "يوٹوپيا"، "مدينہ فاضلہ"، مطلوبہ معاشرہ" يا "مثالي معاشرہ و مثالي حکومت" يا پھر "خيالي حکومت" کا نام ديا ہے؛ يعني وہ معاشرہ جس ميں بدنظمي اور موجودہ معاشروں کے مسائل و مشکلات کا دور دور تک کوئي پتہ نہ ہو- اس قسم کا نظريہ سب سے پہلے افلاطون نے پيش کيا اور افلاطون سے لے کر فارابي کے مدينہ فاضلہ تک اور فارابي سے لے کر کميونسٹوں اور سوشلسٹوں کے تخيلي مدينہ فاضلہ و جنت موعود تک اور ان سے لے کر يورپي عصر نَشأَتِ ثانيه اور بيداري کے زمانے ميں انسان پرستي (يا Humanism) پر مبني سن آگسٹائن اور تھامس مورو کے مدينہ فاضلہ تک ـ جس ميں انھوں نے انساني شہر و معاشرے کو حيات کي قيد اور دين کي شرط سے فارغ کرکے ہيومنزم (Humanism) نام کے مذہب کي بنيادي رکھي-

يوٹوپيا ايک يوناني لفظ ہے جس کو پہلي بار تھامس مور نے استعمال کيا ہے يوٹوپيا کي يوناني جڑ ou - topos ہے جس کے معني "ہيچستان" ہے جس کو مُتَأَلِّه حکيم و فيلسوف شيخ شہاب الدين سہروردي نے "ناکجا آباد" کا نام ديا- (1)

سب سے پہلے جس مفکر نے ايک آئيڈيل تفکر کو عقلي برہان پر استوار کيا نامور يوناني فيلسوف افلاطون (ولادت سنہ 347 ـ وفات 427 عيسوي) نے اپني کتاب "جمہوريہ" ميں يا "عدل کے حقيقي مفہوم" کي بحث ميں اس موضوع کي طرف اشارہ کيا- ابو نصر الفارابي نے اس کے بعد "آرمان شہر" کا تفکر اپني کتاب "انديشہ ہائے اہل مدينۂ فاضلہ" ميں پيش کيا اور "شريعت اسلام کے مفاہيم کے سانچے ميں" فلسفي تفکرات کي بنياد پر ايک آئيڈين معاشرے کي تشکيل کے تفکر کي بنياد رکھي- (2)

 

حوالہ جات:

1- مور تامس، آرمانشهر «يوتوپيا»، ترجمه داريوش آشوري، خوارزمي، تهران، اول، 61-

2- حجت الله اصيل، آرمانشهر در انديشة ايراني، ص 16 ـ 18، ص 19-

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

ظہور مہدي (عج) اور حجازيوں کا رد عمل!

حديث نبوي ميں بشارت مہدي