• صارفین کی تعداد :
  • 6529
  • 2/6/2014
  • تاريخ :

دجّال کا مختصر تعارف(حصہ دوم)

دجّال کا مختصر تعارف 2

دجال کے بارے ميں دو آراء پائي جاتي ہيں:

1- دجال بحيثيت ايک فرد: 

دجال کي ذاتي توصيفات ـ جو روايات ميں مذکور ہيں ـ کہ وہ ايک موٹا، سرخ چہرے اور گنگريالے بالوں والا شخص ہے، اس کي دائيں آنکھ ٹيڑھي ترچھي اور اس کي آنکھ پاني پر رکھے ہوئے انگور کے دانے کي مانند ہے- (5)

ايک روايت ميں ہے کہ دجال رسول خدا (ص) کے زمانے ميں موجود اور اس کا نام عبداللہ بن صائد بن صيہ تھا- اصحاب اس کو ديکھنے اس کے گھر گئے، وہ الوہيت کا مدعي تھا، عمر نے اس کو مارنا چاہا ليکن رسول خدا (ص) مانع ہوئے- (6)

گنجي شافعي اس بات کي تائيد نہيں کرتا اور ايک روايت مسلم کي روايت کو بنياد بنا کر کہتا ہے کہ صائد کے بيٹے نے اپنے دجال ہونے کا انکار کيا ہے- (7)

مسلم کي روايت:

ابوسعيد الخدري کہتے ہيں: "ميں نے مدينہ سے مکہ تک ابن صائد کے ساتھ سفر کيا؛ اس نے کہا: بعض لوگ سمجھتے ہيں کہ ميں دجال ہوں ليکن کيا آپ نے رسول خدا (ص) سے نہيں سنا کہ دجال کي کوئي اولاد نہيں ہے؟ ميں نے تصديق کي تو کہنے لگا: ميري اولاد ہے اور کيا آپ نے رسول خدا (ص) سے نہيں سنا کہ دجال مکہ اور مدينہ ميں داخل نہيں ہوگا ميں نے تصديق کي تو کہنے لگا: ميں مدينہ ميں پيدا ہوا اور اب مکہ جارہا ہوں- (8)

2- علامتي دجال

سيد محمد صدر کہتے ہيں:

"دجال کا مفہوم خدا اور اسلام کے پيچيدہ ترين اور خطرناک دشمن کي علامت (Symbol) ہے؛ يہ درحقيقت مغربي مادہ پرستانہ مکتب و نظريہ کائنات کي توصيف ہے"- (9) اور کئي ديگر علماء بھي دجال کو ايک علامتي مفہوم سمجھتے ہيں-

ايک رائے يہ بھي ہے کہ دجال اشراط الساعہ کا حصہ اور قرب قيامت کي علامت ہے کہ اگر اس فرض کو مانا جائے تو دجال کا موضوع علائم ظہور کي بحث سے خارج ہوگا- کيونکہ بعض روايات اسي فرض کي تائيد کرتي ہيں، ايک روايت کے مطابق رسول اللہ (ص) نے قرب قيامت کے دس علامتيں بيان فرمائي ہيں جن دجال کا خروج بھي شامل ہے- (10)  

نيز کہا گيا ہے کہ دجال اصفہان، خراسان يا سجستان سے خروج کرے گا اور وہ يا تو حضرت عيسي (ع) کے يا پھر حضرت مہدي (عج) کے ہاتھوں مارا جائے گا-  (ختم شد)

 

حوالہ جات:

5- صحيح مسلم، ج 9، باب 1094، ح 1947-

6- بحارالانوار، ج 52، ص 193-  

7- محمد ابن يوسف گنجي، كتاب البيان، ص 108-

8- الجامع الصحيح- مسلم بن الحجاج النيسابوري ج 8 ص 190-

9- نشانه‌هاي يار و چكامة انتظار، مهدي عليزاده، ص 67، بحوالہ موسوعة امام مهدي، سيد محمد صدر-

10- اثبات الهداة، شيخ حرعاملي، ج 7، ص 405و مختصر بصائر الدرجات، ص 202 و الغيبه طوسي، ص 426 و خصال شيخ صدوق، ج 2، ص 431- صحيح مسلم ج 8 ص 179-

 

ترحمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

تيسري حتمي علامت آسماني چيخ

قرب ظہور کے اور سياہ پرچموں کا خروج