• صارفین کی تعداد :
  • 766
  • 12/20/2013
  • تاريخ :

بنگلہ ديش کا سياسي مستقبل

بنگلہ دیش کا سیاسی مستقبل

بنگلہ ديش کے تاريخي روزنامہ سنگرام کے سابق ايگزيکٹو ايڈيٹر اور جماعت اسلامي کے رہنما عبدالقادر ملا کي پھانسي سے حسينہ واجد  کي حکومت مسائل مشکلات کا شکار ہو سکتي ہے- اس لئے کہ شيخ مجيب الرحمن نے عام معافي کا اعلان کيا اور پاکستاني فوجيوں اور الشمس و البدر کيخلاف کارروائي نہ کرنے کا فيصلہ ہوا اور پاکستان سے تعلقات بہتر بنانے پر آمادگي ظاہر کي اور بعد ميں آنے والي عوامي ليگ اور پي اين پي کي حکومتيں بھي گڑے مردے نہ اکھاڑنے کي اس پاليسي پر عمل پيرا رہيں مگر 2008ء ميں ايک بار پھر برسر اقتدار آنے کے بعد حسينہ واجد نے آئين ميں پانچويں ترميم ختم کرکے ايک طرف تو بنگلہ ديش کا اسلامي تشخص ختم کيا ،آئين سے بسم اللہ کے الفاظ کھرچ ڈالے اور دوسري طرف جنگي جرائم کا مسئلہ اٹھايا -

جماعت اسلامي کا کہنا ہے کہ بياليس سال کے بعد جماعت اسلامي کے رہنماۆں پر بغاوت کا مقدمہ چلانا عوامي ليگ کا ايک سياسي کھيل ہے اور اس کا مقصد جماعت اسلامي کو انتخابي معرکے سے باہر کرنا ہے- اب اس کھيل کو بند ہونا چاہيے- اگرچہ حکومت نے مخالفين کي اس دليل کو رد کيا ہے ليکن خالدہ ضياء کي نيشنلسٹ پارٹي کي جانب سے جماعت اسلامي کي حمايت نے حکمراں جماعت کے ليے رواں سال کے اختتام تک عام انتخابات ميں حالات دشوار بنا ديے ہيں-

نيشنلسٹ پارٹي نے جماعت اسلامي کے حاميوں کے مظاہروں اور احتجاج سے فائدہ اٹھا کر ملک ميں انتخابات سے قبل ايک غيرجانبدار نگراں حکومت بنانے کا مطالبہ کيا ہے تاکہ صاف اور شفاف انتخابات کے انعقاد کو يقيني بنايا جا سکے- ليکن حکمراں جماعت عوامي ليگ نے اس مطالبے کو غيرقانوني قرار ديتے ہوئے اسے مسترد کر ديا ہے- اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرکے نہ تو بنگلہ ديش کے اسلامي تشخص کو ختم کيا جا سکتا ہے اور نہ بنگلہ ديش کي عوام ميں اسلام کے خلاف نفرت پيدا کي جا سکتي ہے - پوري دنيا کے مسلمان ايک جسم کي مانند ہيں اور اگر جسم کے کسي خاص حصے کو تکليف ہو تو   پورا جسم اس تکليف کو محسوس کرتا ہے - (جاري ہے )


بنگلاديش ميں جماعت اسلامي کے سينئر رہنما عبدالقادر ملا کو پھانسي

بحرين، آل خليفہ کے خلاف جاري مظاہرے