• صارفین کی تعداد :
  • 3285
  • 12/22/2013
  • تاريخ :

اميرالمۆمنين(ع) کي رجعت اور شيطان کي موت

امیرالمؤمنین(ع) کی رجعت اور شیطان کی موت

{قَالَ رَبِّ فَأَنظِرْنِي إِلَى يَوْمِ يُبْعَثُونَ * قَالَ فَإِنَّكَ مِنَ الْمُنظَرِينَ * إِلَى يَومِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ}- (1)

"اس نے کہا اے ميرے مالک! تو پھر مجھے تو مہلت ديدے اس دن تک کہ جب لوگ قبروں سے اٹھيں گے * کہا تو مہلت ديئے جانے والوں ميں سے ہے * مقررہ وقت والے دن تک"-

علامہ طباطبائي (رح) لکھتے ہيں: "--- مقررہ وقت والا دن وہ دن ہے جب خدا انساني معاشرے کي اصلاح کرےگا، فساد کي جڑوں کو اکھاڑ پھينکےگا، اس کے بعد کوئي خدا کے سوا کسي کي پرستش نہ کرےگا اور وہ ابليس کي عمر کا آخري دن ہے"- (2)

امام صادق(ع) نے فرمايا:

"ابليس نے قيامت تک کي مہلت مانگي ليکن خدا نے مسترد کردي اور فرمايا: تجھے مقررہ وقت والے دن تک مہلت دي گئي"، جب وہ معينہ دن آئےگا، ابليس ـ اور آدم(ع) سے اس روز تک ـ اس کي پيروي کرنے والے سب ظاہر ہونگے---"- اور اميرالمۆمنين(ع) بھي لوٹ کر آئيں گے اور يہ ان کي آخري رجعت ہوگي؛ راوي نے کہا: کيا اميرالمۆمنين(ع) کئي بار رجعت فرمائيں گے؟ فرمايا: ہاں!--- پس جب اميرالمۆمنين(ع) کي آخري رجعت کا دن آن پہنچےگا اور وہ اپنے اصحاب کے ہمراہ آئيں گے اور شيطان بھي اپنے اصحاب کے ہمراہ آئےگا؛ اور کوفہ کے قريب فرات کے کنارے ان کا آمنا سامنا ہوگا تو ان کے درميان ايسا کشت وخون ہوگا جو اس سے قبل واقع نہ ہوا ہوگا"-

امام صادق(ع) نے فرمايا: "گويا ميں ديکھ رہا ہوں کہ حضرت امير(ع) کے اصحاب سو قدم پيچھے آئيں گے حتي کہ ان ميں سے بعض کے پاۆں فرات کے پاني ميں داخل ہونگے- پس آسمان سے بادل کا ايک ٹکڑا اتر آئےگا جو فرشتوں سے بھرا ہوا ہوگا اور رسول اللہ(ص) ـ جن کے ہاتھ ميں نور کي تلوار ہوگي ـ بادل سے آگے آگے آئيں گے، شيطان کي نظر آنحضرت(ص) پر پڑےگي، تو پسپا ہوجائےگا اور اس کے اصحاب کہيں گے: اب جو تو کامياب ہوچکا ہے تو کہاں جارہا ہے؟

شيطان کہےگا: جو کچھ ميں ديکھ رہا ہوں تم نہيں ديکھ رہے ہو، ميں جہانوں کے پروردگار سے خوفزدہ ہوں-

پس رسول اللہ(ص) اس کا تعاقب اس کو آليں گے اور اپنے ہتھيار سے اس کے دو کندھوں کے درميان وار کريں گے جس کے بعد وہ اور اس کے تمام اصحاب ہلاک ہونگے-

اس کے بعد لوگ خدا کي يکتائي پر ايمان لاکر اس کي پرستش کريں گے اور کسي چيز کو خدا کے ساتھ شريک قرار نہيں ديں گے- [اس روايت کے مطابق] حضرت امير(ع) چواليس ہزار سال حکومت کريں گے؛ پس اس وقت دو سرسبز و شاداب باغ ـ جن کي طرف سورہ رحمن ميں اشارہ ہوا ہے (3) کوفہ کے دو اطراف سے ـ ايک دوسرے سے آمليں گے"- (4)

..............

1- سورہ ص آيت 79 تا 81-

2- الميزان ج 12، ص 168-

3- سورہ رحمن آيت 62- 

4- علامہ مجلسي (رح) بحارج 53، ص 42- حق اليقين ص 341-