• صارفین کی تعداد :
  • 2100
  • 1/17/2014
  • تاريخ :

ظہور کي آمد پر سرزمين حجاز کے سياسي حالات 2

ظہور کی آمد پر سرزمین حجاز کے سیاسی حالات 2

ظہور کي آمد پر سرزمين حجاز کے سياسي حالات 1

سرزمين حجاز پر مسلط بدامني کي فضا شيعہ دشمن فضا ہے اور بہت سے شيعہ جيلوں ميں بند کئے جائيں گے- يہ واقعات پچيس ذوالحجۃالحرام کو رکن و مقام کے درميان امام مہدي (عج) کے ايلچي يعني "نفس زکيہ" کو مسجد الحرام ميں حرام مہينے کے دوران قتل کيا جائے گا-

ظہور سے قبل حجاز کا بہت اہم مسئلہ يہ ہے کہ مسلمان سب امام مہدي (عج) کے چشم براہ اور ان کے ظہور کے منتظر ہونگے- اس زمانے ميں يہ حجاز ميں پھيل جائے گي کہ امام (عج) مدينہ منورہ ميں سکونت پذير ہيں اور ان کي تحريک کا آغاز مکہ مکرمہ سے ہوگا- اس دوران امام (عج) مدينہ منورہ اور پھر مکہ مکرمہ ميں اپنے انصار و اعوان سے رابطہ برقرار کريں گے اور اپنا قائدانہ کردار تقريبا ادا کريں گے اور ان حساس حالات ميں اپنا پيغام اپنے پيروکاروں اور اعوان و انصار اور اصحاب تک پہنچاتے رہيں گے- اور (آسماني ندا اور سفياني کے خروج کے بعد) دنيا بھر کے ممالک ميں اپنے اصحاب سے رابطہ کريں گے اور يہي غيبت کبري کے دور کا اختتام ہوگا- 

ان واقعات و حوادث کو مدنظر رکھ کر ہم نتيجہ اخذ کرتے ہيں کہ اہليان حجاز اس وقت امام (عج) کے ظہور کے خواہاں نہيں ہيں اور يہ مسئلہ آنجناب (عج) سے مخفي نہ ہوگا- چنانچہ امام محمد باقر (ع) سے منقولہ حديث کے مطابق امام مہدي (عج) صراحت کے ساتھ بيان فرمائيں گے کہ: "اے لوگو! اہل مکہ مجھے نہيں چاہتے ليکن مجھے ان کي جانب بھيجا گيا ہے تا کہ حجت ان پر تمام کردوں، جيسا کہ مجھ جيسے افراد کے لئے مناسب ہے کہ اتمام حجت کريں"-  (ختم شد)

 

منابع:

 سعودي عالم و دانشور استاد مجتبي الساده، کا انٹرويو ـ ترتيب: امير رضا عرب -  بخش مهدويت تبيان


متعلقہ تحریریں:

کيا اہل سنت امام مہدي (عج) کے معتقد ہيں؟ 2

حديث مہدويت صحيحين ميں 2