• صارفین کی تعداد :
  • 2721
  • 12/15/2013
  • تاريخ :

قمه زني و عشق و عقل و معرفت 1

نواسہ رسول

قمه زني و عشق و عقل و معرفت 2

سۆال:

عشق و محبت کي بنا پر سرزد ہونے والے افعال اگر بغير دليل ہوں تو کيا دين ان کي تأئيد نہيں کرتا؟

جواب:

گو کہ اسلام دل کو قبول کرتا ہے، عشق اور سير و سلوک کو قبول کرتا ہے تاہم عقل و فکر اور استدلال و منطق کو حقير نہيں سمجھتا بلکہ عقل و فکر اور استدلال و تعقل کے لئے بہت زيادہ احترام کا قائل ہے- (1) اسلام کہتا ہے ہر چند تم خدا کے وجود اور وحدانيت و يکتائي کے معتقد ہي ہوں مگر اگر اس اعتقاد کي جڑ مثلاً ايک «خواب» ہو يا ماں باپ کي تقليد ہو يا ماحول کے اثرات کي بنا پر ہو، يہ يکتا پرستي قابل قبول نہيں ہے- وہ يکتا پرستي قابل قبول ہے جو تحقيقي ہو اور تمہاري عقل نے دليل و برہان کے ذريعے قبول کي ہو ورنہ اس کے سوا (اصول دين کي حد تک) کوئي چيزبھي ہمارے (شيعہ) کے نزديک قابل قبول نہيں ہے- (2) قرآن مجيد بارہا و بارہا تعقّل، سوچ سمجھ پر تأکيد کرتا ہے؛ (3) اس کے علاوہ جب آپ حديث کي کتابيں کھولتے ہيں تو سب سے پہلا باب جو نظر آتا ہے "باب العقل" ہے- امام موسي کاظم عليہ السلام اس بارے ميں فرماتے ہيں کہ خدا کي دو حجتيں ہيں، اس کے دو پيغمبر ہيں ايک پيغمبر اندروني ہے جو انسان کي عقل ہے اور ايک پيغمبر بيروني ہے جو ہر زمانے ميں خدا کا بھيجا ہۆا ہوتا ہے اور يہ بيروني پيغمبر انسان ہيں اور اور ہر زمانے ميں انہوں نے لوگوں کو يکتا پرستي اور فلاح کي دعوت دي ہے- خدا کي دو حجتيں ہيں اور اگر انبياء (عليہم السلام) ہوں مگر انسان کے پاس عقل نہ ہو تو پھر بھي انسان سعادت کي راہ پر گامزن نہيں ہوسکتا- (4)

-----------

1- الکافي ج1 ص، ص 187

2- شہيد آيت اللہ مرتضي مطہري، انسان کامل، ص 186

3- انسان کامل ، ص 153-

4- کتاب تحف العقول ص 383- امام موسي کاظم (عليہ السلام) مقام عقل کي تشريح کرتے ہوئے اس آيت کي طرف اشارہ فرماتے ہيں کہ: خداوند تبارک و تعالى نے قرآن ميں «عقل اور فہم والوں» کو بشارت دے کر فرمايا ہے: {فَبَشِّرْ عِبادِ الَّذِينَ يسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ أُولئِك الَّذِينَ هَداهُمُ اللَّهُ وَ أُولئِك هم أُولُوا الْأَلْبابِ}- (سورہ زمر (39) آيت 18)-

اے هشام! خدائے عز و جلّ نے عقل عطا کرکے انسانوں پر حجت تمام کردي اور آسماني کتابوں کے ذريعے انہيں ابلاغ فرمايا اور اپنے راہنماۆں (يعني انبياء) کے ذريعے انہيں اپني ربوبيت کي طرف ہدايت عطا کي اور فرمايا: {وَإِلهُكمْ إِلهٌ واحِدٌ لا إِلهَ إِلَّا هو الرَّحْمنُ الرَّحِيمُ إِنَّ فِي خَلْقِ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ اخْتِلافِ اللَّيلِ وَ النَّهارِ إِلَى قَوْلِهِ لَآياتٍ لِقَوْمٍ يعْقِلُونَ}- (بقرہ (2) آيات 163 و 164)-