• صارفین کی تعداد :
  • 3735
  • 12/17/2013
  • تاريخ :

حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ کا انتقال

حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ کا انتقال

مدينہ ميں حضرت محمد صلّي اللہ عليہ و آلہ کي ولادت (حصہ اول)

آپ صلّي اللہ  عليہ و آلہ  وسلم     نے  63 سال کي عمر ميں حجۃ الوداع کا فريضہ ادا کرکے غدير خم ميں حضرت علي عليہ السّلام کو اپنا جانشين منتخب کرنے کے بعد بيماري کي وجہ سے دار فاني کو وداع کرکے دار بقا کو چلے گئے-

پيغمبر (ص) کے سال وفات سے متعلق بھي شيعہ اور اہل سنت کےدرمياں اتفاق نہيں-  شيعہ مورخين نے اہل بيت عليہم السلام کي پيروي ميں دوشنبہ 28 صفر سنہ گيارہ ہجري کو پيامبر صلي اللہ عليہ  وآلہ وسلم کا تاريخ وفات قرار دياہے ليکن اہل سنت کے علما ء  آپ کے تاريخ انتقال کو ماہِ ربيع الاول ميں مانتے ہيں مگر اس کے دن ميں ان کے درميان اختلاف ہے چنانچہ بعض ايک ربيع الاول، اور بعض جيسے واقدي(3) بارہ ربيع الاول کو اور باقي ربيع الاول کے کسي اور دن کو آنحضرت کے تاريخ وفات بتاتے ہيں-(4)

پيامبر صلّي اللہ عليہ وآلہ وسلم  کي وفات کے بعد جب مہاجرين اور انصار سقيفہ بني ساعد ميں جمع ہوکر حضرت محمد صلّي اللہ  عليہ وآلہ  وسلم  کے جانشين کے بارے ميں بحث اور گفتگو کررہے تھے، حضرت علي عليہ السّلام اپنے چند چچا زاد بھائيوں کے ساتھ آنحضرت کو غسل دينے ميں مصروف تھے-

اہل بيت عليہم السّلام اور  کئي بزرگ صحابہ نے  حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ کي  تدفين کي جگہ کے بارے ميں گفتگو کي اور ہر ايک نے اپني رائے سنائي- حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا: إ نّ اللّه لم يقبض روح نبيّه إ لّا فى اءطهر البقاع و ينبغى اءن يدفن حيث قبض ؛(5) --- اللہ تعالي،  پيامبر کي جان  نہيں ليتاہے مگر سب سے پاک جگہ پر ،تو يہي اچھا ہے کہ ان کو  وہاں دفن کياجائے جہاں ان کا انتقال ہواہے-

حضرت علي کي يہ بات سب کو پسند آئي اور آنحضرت کو وہيں دفن کيا گيا- طبري نے اس بات کو ابوبکر پر منسوب کياہے اور ان سے نقل کيا ہے کہ: ما قبض نبىُّ إ لّا يدفن حيث قبض(161)؛ کسي پيامبر کا انتقال نہيں ہوتاہے مگر يہ کہ جہاں اس کي تدفين کي گئي ہو  ،ان کي  جان  اس کے  بدن سے نکل گئي ہو -

اب حضرت محمد صلي اللہ عليہ و آلہ   وسلم کا مزار مسجد النبوي کے اندر ہي ہے اور دنيا بھر کے مسلمان  وہاں ان کي زيارت کےليے آتے ہيں-

1-        اشاره به آيه 3، سوره مائده (اَلْيَومَ اَكْمَلْتُ دينَكُم وَ اَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتى وَ رَضيتُ لَكُمُ الْإ سْلامَ دينا).

2-       كشف الغمه ، ج 1، ص 17 و تاريخ ‌الطبرى ، ج 3، ص 217.

3-      المغازى ، ج 2، ص 1120.

4-     كشف الغمه ، ج 1، ص 26؛ منتهى الا مال ، ج 1، ص 100 و بحارالانوار، ج 22، ص 528 و ص 514.

5-      كشف الغمه ، ج 1، ص 26.

6-      تاريخ ‌الطبرى ، ج 3، ص 213.