• صارفین کی تعداد :
  • 2358
  • 12/8/2013
  • تاريخ :

نماز مسجد جمکران کي سند!

 

نماز مسجد جمکران کی سند!

امام زمانہ (عج) نے حسن بن مثلہ جمکراني (رح) سے فرمايا: لوگوں سے کہہ دو کہ اس مقام پر حاضري ديں اور اس کو عزيز رکھيں اور اس ميں چار رکعت نماز بجا لائيں-

پہلي نماز "تحيتِ مسجد" کي نيت سے بجا لائيں اور ہر رکعت ميں ايک مرتبہ سورہ حمد اور سات مرتبہ سورہ اخلاص (قل هو الله احد...) پڑھيں اور رکوع ميں سات مرتبہ "سبحان ربي العظيم وبحمدہ" اور سجدوں ميں سات مرتبہ "سبحان ربي الاعلي وبحمدہ" پڑھيں- دوسري نماز "نماز امام زمانہ (عج)" کي نيت سے بجا لائيں- اس نماز کي ہر رکعت ميں سورہ حمد کي تلاوت کے دوران سو مرتبہ "اياک نعبد واياک نستعين" پڑھيں اور رکوع و سجود کا ذکر سات مرتبہ دہرائيں-

اور جب نماز مکمل ہوجائے تو سلام ديں اور اس کے بعد ايک مرتبہ "لا اِلهَ اِلّا اللهُ" پڑھيں اور اس کے بعد تسبيحات حضرت زہراء (س) (يعني 34 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ الحمد للہ اور 33 مرتبہ سبحان اللہ) پڑھيں (1) اور اس کے بعد سجدہ کريں اور سجد ميں 100 مرتبہ پڑھيں: "اللهم صلِّ علي محمدٍ و آلِ محمدٍ"-

اس کے بعد حضرت ولي عصر (عَجَّلَ اللهُ تَعالي فَرَجَهُ الشَّريف) نے فرمايا: جو بھي يہ دو دو رکعتي نماز بجا لائے اس شخص کي مانند ہے جس نے کعبہ معظمہ ميں دو رکعت نماز ادا کي ہو"- (2)

 

حوالہ جات:

1- تسبيح حضرت زہراء (سلام اللہ عليہا) پر اسرار اور آثار و فضائل مترتب ہيں جن کے بارے ميں مزيد آگہي کے لئے متعلقہ ثواب الاعمال شيخ صدوق اور ادعيہ کي کتب سے رجوع کريں-

2. الزام الناصب، شيخ‌علي يزدي حائري، ج2، ص59.

 

 

منبع : پورتال جامع مهدويت

ترجمہ فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

جمکران ميں عرائض کے لئے کنويں کا قضيہ!

جمکران اور اکابرين دين کي توجہ