• صارفین کی تعداد :
  • 3017
  • 11/23/2013
  • تاريخ :

سر بر محمل زدن حضرت زينب 1

سر بر محمل زدن حضرت زينب 1

سۆال:

کيا يہ درست نہيں ہے کہ سيدہ زينب (س) نے اپنا سر محمل پہ مارا اور خون جاري ہۆا؟

 

جواب:

يہ داستان کسي بھي شيعہ عالم، مۆرخ يا محدث نے نقل نہيں کي ہے اور اس کا راوي «مسلم جصاص» نامي شخص ہے- اس شخص نے کہا ہے: ميں شہر کوفہ کے مرکزي دروازے کے پاس کھڑا تھا - جبکہ دروازہ زير تعمير تھا - کہ شور و غل کي آوازيں آنے لگيں؛ ميں اسي جانب چلا گيا اور ميں نے ديکھا کہ عاشورا کے قيدي کجاۆوں اور محملوں ميں ہيں- جب يزيديوں نے امام حسين (ع) کا سر مبارک نوک سناں پر اٹھايا؛ حضرت زينب سلام اللہ نے يہ حالت ديکھ کر شدت غم سے اپنا سر کجاوے کي لکڑي پر دے مارا اور خون آپ (س) کے مقنعے کے نيچے سے جاري ہۆا اور آپ (س) اشکبار آنکھوں کے ساتھ اشعار پڑھ رہي تھيں----

پہلي بات تو يہ ہے کہ يہ روايت سند کے لحاظ سے بہت ہي ضعيف ہے؛ يہ داستان «نور العين في مشہد الحسين (ع)» نامي کتاب سے نقل ہوئي ہے اور اس کتاب کا مۆلف نامعلوم ہے اور صرف بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس کتاب کے مۆلف کا نام ابراہيم بن محمد نيشابوري اسفرايني ہے جن کا مسلک اشعري ہے اور مذہب شافعي- اکثر علماء نے اس کتاب کے نامعتبر ہونے کي تصديق کي ہے؛ جيسا کہ عالم بزرگوار جناب آيت اللہ حاج ميرزا محمد ارباب (رحمة اللہ عليہ) نے نور العين نامي کتاب اور مسلم جصاص کي داستان کو ناقابل اعتبار قرار ديا ہے- (1) اسي طرح منتھي الآمال، سفينة البحار اور مفاتيح الجنان کے مۆلف محدث عظيم شيخ عباس قمي رحمة اللہ عليہ اس روايت کو نقل کرکے اس کي وضاحت ميں لکھتے ہيں: مسلم جصاص کے سوا کسي نے بھي نہيں کہا ہے کہ اونٹوں پر کجاوے تھے!--- اس روايت کا منبع «منتخب طريحي» اور «نورالعين» نامي کتابيں ہيں اور دونوں کا حال اہل فن علماء کے نزديک ظاہر و آشکار ہے- اور سرتوڑنے جيسے اعمال اور کتب ميں متذکرہ اشعار پڑھنا بھي حضرت زينب (س) جيسي شخصيت سے بعيد ہے کيونکہ بي‏بي سيدہ عقيلہ بني ہاشم ہيں جو عالمہ ہيں مگر انہيں کسي نے پڑھايا نہيں اور نبوت کي سينے سے سيراب ہوئي ہيں اور مقام رضا و تسليم کي بلندي پر فائز ہيں-( 2)

 

حوالہ جات:

1- خدش: خَدَشَ جلده و وجهَه: مزقه- و الخَدْشُ: مزْقُ الجلد، قلّ أَو کثر- يقال: خدَشَت المرأَة وجهَها عند المصيبة- لسان‏العرب، ج 6، ص 292، فرہنگ معاصر عربي - فارسي، آذرتاش آذرنوش، نشر ني، چاپ چهارم،1383-

2- ميرزا محمد ارباب، الاربعين الحسينيه، چاپ اسوه، ص232-

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

واقعہ کربلا کے حقائق

کربلا کا واقعہ