• صارفین کی تعداد :
  • 3231
  • 11/12/2013
  • تاريخ :

کربلا کا واقعہ

کربلا کا واقعہ

عاشورا درس حريت و آزادي (حصّہ اول)

عاشورہ ، حريت اور آزادي کا پيغام (حصّہ دوم)

بيٹي: امي نے آپ نے بتايا تھا کہ امام حسين عليہ السلام مدينہ ميں يزيد کي بيعت کے مطالبے کو ٹھکرا کر مکہ کي طرف روانہ ہوئے- اس کے بعد کيا ہوا؟

ماں: بيٹي جيسے ميں نے بتايا تھا کہ امام حسين عليہ السلام اٹھائيس رجب سنہ ساٹھ ہجري کو مدينہ سے مکہ کے ليے روانہ ہوئے اور تين شعبان کو مکہ معظمہ پہنچے- آپ نے وہاں پہنچ کر بھي اسلام کي تبليغ کي ذمہ دارياں انجام ديں- آپ نے مکہ پہنچنے کے بعد بصرہ کے قبائل کے سرداروں کو ايک خط لکھا جس ميں آپ نے تحرير فرمايا کہ ميں ابھي اپنے نمائندے کو اس خط کے ساتھ آپ کي طرف بھيج رہا ہوں، ميں آپ کو کتاب خدا اور سنت پيغمبر اکرم (ص) کي طرف دعوت ديتا ہوں، چونکہ حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہيں کہ سنت پيغمبر اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم ختم ہو چکي ہے اور بدعتيں زندہ ہو گئي ہيں، اگر آپ ميري بات کو سنيں گے تو ميں آپ کو سيدھے راستے کي طرف ہدايت کروں گا-

بيٹي: تو پھر امام حسين عليہ السلام نے مکہ کيوں چھوڑ ديا؟

ماں: بيٹي امام حسين عليہ السلام نے تين شعبان سے لے کر ذي الحجہ کي آٹھ تاريخ تک مکہ ميں قيام کيا اور مسلمانوں کو اسلام کي حقيقي تعليمات اور يزيد کے اسلام مخالف اقدامات سے آگاہ کرنے کا فريضہ انجام ديا- آپ نے اپنے چچا زاد بھائي مسلم بن عقيل کو حالات کا جائزہ لينے کے ليے کوفہ روانہ کيا کہ جہاں کے لوگ امام عليہ السلام کو اپنے ہاں آنے کي دعوت دے رہے تھے- ايک ايسے وقت ميں کہ جب ہر طرف سے مسلمان حج ادا کرنے کے ليے مکہ مکرمہ کا رخ کر رہے تھے تو يزيد نے حاجيوں کے روپ ميں قاتل بھيج کر امام حسين عليہ السلام کو قتل کرنے کي سازش کي- امام عليہ السلام نے يزيد کي اس سازش کو بھانپتے ہوئے مکہ کے احترام کے پيش نظر اسے چھوڑنے کا فيصلہ کيا- آپ اس فيصلے سے امت مسلمہ کے ليے يہ سوال چھوڑے جا رہے تھے کہ کيا وجہ ہے کہ جب سارے مسلمان حج ادا کرنے کے ليے خانہ خدا کا رخ کر رہے ہيں تو رسول کا پيارا نواسہ يہاں سے کيوں جا رہا ہے؟

بيٹي : تو پھر امام حسين عليہ السلام کربلا کيسے پہنچے؟

ماں: امام حسين عليہ السلام اپنے چچا زاد بھائي مسلم بن عقيل کو حالات کا جائزہ لينے کے ليے کوفہ بھيج چکے تھے- پہلے تو اہل کوفہ نے حضرت مسلم بن عقيل کي خوب پذيرائي کي اور امام عليہ السلام کا ساتھ دينے کا عہد کيا ليکن جب يزيد کو ان حالات کي خبر ہوئي تو اس نے عبيداللہ ابن زياد کو کوفے کي طرف روانہ کيا جس نے مکر و فريب سے کوفے ميں داخل ہو کر اہل کوفہ کو سنگين نتائج کي دھمکياں ديں اور لوگ ڈر کر اپنے گھروں ميں بيٹھ گئے- پھر عبيداللہ ابن زياد نے نو ذي الحجہ کو حضرت مسلم بن عقيل کو بڑي بے دردي سے شہيد کر ديا- امام حسين عليہ السلام کو راستے ميں ان کي شہادت کي خبر ملي- راستے ميں ہي يزيدي فوج کا ايک دستہ حر بن يزيد رياحي کي سرکردگي ميں آپ کے قافلے کا راستہ روکتا ہے- آپ اسے اور اس کے سپاہيوں کو تشنہ ديکھ کر انہيں سيراب کرنے کا حکم ديتے ہيں حتي کہ ان کے گھوڑوں کو بھي پاني پلايا جاتا ہے-

مختصر يہ کہ امام عليہ السلام دو محرم کو جب کربلا کي سرزمين پر پہنچتے ہيں تو وہيں پر خيمے لگانے کا حکم ديتے ہيں- (جاری ہے)


متعلقہ تحریریں:

 کربلا حيات بخش کيوں ہے ؟

واقع کربلا کے موقع پر رونما ہونے والے واقعات کا خاکہ