• صارفین کی تعداد :
  • 2750
  • 11/6/2013
  • تاريخ :

 کربلا حيات بخش کيوں ہے ؟

کربلا حيات بخش کيوں ہے ؟

کربلا کے بارے ميں ايک سوال يہ ہے کہ کربلا شيعيان آل محمد (ص) اور دنيا کے حريت پسندوں کے لئے حيات بخش اور ولولہ انگيز کيوں ہے؟

کربلا کے واقعے ميں ايسي کونسا راز ہے جو دلوں کو اس طرح منقلب کرتا ہے؟

انقلاب عاشورا کے پس منظر ميں ايسا کونسا مشن اور کونسا محرک ہے حو  اتني صدياں گذرنے کے باوجود ذہنوں ميں زندہ ہے؟

ہم سب سيدالشہداء عليہ السلام کے شيدائي ہيں اور اپنے دل کي اتہاہ ميں ان سب سوالات کا جواب جانتے ہيں گوکہ شايد ہم اسے اپني زبان پرنہ لاسکيں؛ گويا ہم سب کے دلوں ميں ايک غيرمکتوب ميثاق لکھي گئي ہے جو دل کي آگ کو ہر وقت جلائے رکھتي ہے- ہم سب اس عظيم اور مثالي رزميہ واقعے پر پس پردہ عظيم روح کا ادراک رکھتے ہيں اور يہي روح، شيعيان آل محمد (ص) ميں ظلم کے خلاف جدوجہد کا جذبہ برقرار رکھتي ہے اور اس کے باوجود کہ ہم تاريخ کے تمام مرحلوں ميں اقليت سمجھے جاتے رہے ہيں ليکن ہميشہ زندہ اور با استقامت رہے ہيں-

ليکن يہ سوال اپني جگہ برقرار ہے کہ واقعۂ کربلا ميں ايسا کونسا مشن اور ہدف مضمر ہے؟ اس سوال کا جواب کتنا اہم ہے؟ کيا ضروري ہے کہ ہم اپنے لئے اس ميثاق، مشن اور اس کے ہدف کي تشريح کريں؟ اس بات کي کيا ضرورت ہے کہ ہم عاشورا کے ہدف سے واقفيت حاصل کريں؟ اگر ہم اس قيام کا ہدف نہ سمجھيں تو کيا يہ ممکن نہيں ہے کہ رفتہ رفتہ اس کے پيغام کے ادراک سے عاجز ہوجائيں اور اس اس کے عظيم اور خوبصورت مشن کو روزمرہ کي عادات و معمولات کے قبرستان ميں دفن کرديں؟ اگر ايسا ہوا تو کيا "ہم حق کے راستے سے منحرف نہيں ہوئے ہيں؟

مسلمہ امر ہے کہ کربلا کا کارنامہ گہرے اور مسلسل تأثيرات مرتب کرتا رہا ہے اور آج بھي مرتب کر رہا ہے اور ان نعمتوں سے فائدہ لينا کربلا کے مشن کي معرفت اور ميثاق عاشورا کي پابندي پر منحصر ہے-

شہيد سيد مرتضي آويني کے دور انديشوں کے پيش خدمت

ان، يزيديوں، کا گماں يہ تھا کہ سيدالشہداء کي صدائے "ہل من ناصر" کربلا ميں دفن ہوجائے گي اور اس کا کوئي اثر باقي نہيں رہ سکے گا، وہ غافل تھے اس حقيقت سے کہ ہر مۆمن کي مٹي خاک کربلا اور شہداء کے خون ميں گوندھي گئي ہے اور جب تک شب و روز باقي ہے، يہ تاريخي رشتہ ـ جو مۆمنين کو عاشورا سے متصل کرديتا ہے ـ فطرتوں کي اتہاہ گہرائيوں ميں بيدار اور زندہ رہے گا، اور ہر اس انسان کو جو اپنے باطن کي صدا سنتا ہے، صحرائے کربلا کي طرف ہدايت کرے گا،اور انسان اگر انسان ہو اور اپنے وجدان اور ضمير کي طرف رجوع کرے، سيدالشہداء کي ندا ضرور سنے گا جو اس کو اس کي فطرت کي ميثاق گوش گذار کراتي ہے- يہ ميثاق جو ايک ازلي ميثاق ہے، ہر آن اور ہر لمحہ مۆمن کے باطن ميں تجديد ہوتي رہتي ہے- ( جاري ہے )

 

بشکریہ آبنا ڈاٹ آئی آر


متعلقہ تحریریں:

واقع کربلا کے موقع پر رونما ہونے والے واقعات کا خاکہ

کتاب شريف تہذيب الاحکام کا تعارف