• صارفین کی تعداد :
  • 4122
  • 10/14/2013
  • تاريخ :

امام محمد باقر (ع) کا وسيع علم

امام محمد باقر (ع) کی وسیع علم

يوم شہادت حضرت امام محمد باقر عليہ السلام (حصہ اول)

امام محمّد باقر (ع) نے اپنے اٹھارہ سالہ دور امامت ميں ايک عظيم اور وسيع علمي تحريک کي بنياد رکھي اور اپنے فرزند ارجمند امام جعفر صادق (ع) کے دور امامت ميں ايک عظيم اسلامي يونيورسٹي کے قيام کے اسباب فراہم کئے -آپ کا علمي دائرہ انتہائي وسيع تھا اور صرف کلامي اور فقہي علوم تک محدود نہيں تھا -امام محمد باقر (ع) کے ايک ممتاز صحابي اور شاگرد جابربن يزيد جعفي کہتے ہيں :

ميں نوجواني کے دور ميں امام محمّد باقر (ع) کي خدمت ميں حاضر ہوا آپ نے پوچھا : کہاں سے اور کس کام کے لئے آئے ہو؟ ميں نے کہا ميں کوفہ کا رہنے والا ہوں اور آپ سے علم حاصل کرنے کےلئے مدينہ آيا ہوں -امام عليہ السلام نے خندہ پيشاني سے ميرا خير مقدم کيا اور مجھے ايک کتاب دي - اس طرح ميں ان کے شاگردوں ميں شامل ہوگيا -تاريخ ميں آيا ہے کہ جابربن يزيد جعفي کو ستر ہزار حديثيں ياد تھيں -

امام محمّد باقر (ع) کي زندگي کے خوبصورت ترين لمحے وہ تھے جب وہ اپنے خدا سے راز و نياز کررہے ہوتے تھے -امام جعفر صادق (ع) فرماتے ہيں کہ ايک رات ميرے والد کافي دير تک گھر نہ آئے -ميں اس پر پريشان ہوگيا اور مسجد کي طرف گيا ديکھا کہ ميرے والد امام محمّد باقر (ع) مسجد کے ايک گوشے ميں خدا سے راز و نياز ميں مشغول ہيں جبکہ دوسرے لوگ اپنے گھروں کو جاچکے تھے -وہ اپنے پروردگار کي بارگاہ ميں اپني پيشاني زمين پر رکھ کر کہہ رہے تھے :

اے پاک و منزہ خدا تو پروردگار حق و حقيقت ہے -خدايا ميں نے تيرے سامنے عبوديت بندگي اور فروتني کي بنا پر سجدہ کيا ہے -خدايا ميرے نيک اعمال ناچيز ہيں پس تو ميرے ان اعمال ميں اضافہ فرما اور قيامت کے دن مجھے اپنے عذاب سے محفوظ رکھ اور مجھے اپني عفو وبخشش کا حقدار قراردے کيونکہ صرف تو ہي توبہ قبول کرنے اور بخشنے والا اور مہربان ہے -

امام محمّد باقر (ع) اپنے جود و سخا اور بخشش ميں مشہور تھے -آپ ہميشہ اپنے اہل خانہ سے کہتے تھے کہ جو ضرورت مند گھر کے دروازے پرآئيں ان کا احترام کريں -امام (ع) کے ايک خادم نے روايت کي ہے کہ امام عليہ السلام کے صحابہ اور جاننے والے جب آپ کے پاس آتے تھے تو آپ نے انہيں اچھا کھانا کھلاتے تھے اور کبھي انہيں اچھا لباس بھي عطا کرتے تھے اور بعض اوقات پيسوں کے ذريعے بھي ان کي مدد کرتے تھے -

خادم کہتا ہے کہ ايک دن ميں نے امام عليہ السلام سے اس سلسلے ميں بات کي اور کہا کہ وہ اپنے اس جود و سخا اور عطا و بخشش کو کچھ کم کرديں کيونکہ مالي حالات کچھ زيادہ اچھے نہيں ہيں -ليکن امام عليہ السلام نے اس کے جواب ميں فرمايا :

دنيا ميں بھائيوں سے ملاقات ، ان کو چيزيں دينے اور نيکي و بھلائي کرنے سے بڑھ کر کوئي اچھي چيز نہيں ہے - (جاری ہے)

 

 

متعلقہ تحریریں:

امام محمد باقر عليہ السلام پہلي اسلامي يونيورسٹي کے باني

زمين کي  گہرائي ميں سفر