• صارفین کی تعداد :
  • 7060
  • 11/10/2013
  • تاريخ :

قرآن کا خطاب مَردوں سے کيوں ہے؟ 2

قرآن کا خطاب مَردوں سے کیوں ہے؟ 2

قرآن کا خطاب مَردوں سے کيوں ہے؟ 1 (حصہ اول)

سورہ آل عمران کے آخر ميں ارشاد رباني ہے:

{فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لاَ أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِّنكُم مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى بَعْضُكُم مِّن بَعْضٍ}- (4)

"تو قبول کي ان کي دعا ان کے پروردگار نے کہ ميں تم ميں سے کسي عمل کرنے والے کے عمل کو، خواہ مردہو ياعورت، برباد نہ کروں گا- تم ايک دوسرے کي جنس ہي سے تو ہو"-

[تہجد سے قبل اس آيت کي تلاوت مستحب ہے]-

سورہ مبارکہ احزاب ميں بھي خداوند متعال وضوح کے ساتھ مردوں اور عورتوں کو ايک ہي ميں نمونہ عمل کے طور پر ذکر کرتا ہے اور فرماتا ہے:

{إِنَّ الْمُسْلِمِينَ وَالْمُسْلِمَاتِ وَالْمُۆْمِنِينَ وَالْمُۆْمِنَاتِ وَالْقَانِتِينَ وَالْقَانِتَاتِ وَالصَّادِقِينَ وَالصَّادِقَاتِ وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِرَاتِ وَالْخَاشِعِينَ وَالْخَاشِعَاتِ وَالْمُتَصَدِّقِينَ وَالْمُتَصَدِّقَاتِ وَالصَّائِمِينَ وَالصَّائِمَاتِ وَالْحَافِظِينَ فُرُوجَهُمْ وَالْحَافِظَاتِ وَالذَّاكِرِينَ اللَّهَ كَثِيراً وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْراً عَظِيماً}- (5)

"اپنے معاملات کو خدا کے سپرد کرنے والے مرد اور ايسي ہي عورتيں اور ايمان کا جوہر رکھنے والے مرد اور يہي جوہر رکھنے والي عورتيں اور صبر کرنے والے مرد اور صبر کرنے والي عورتيں اور اطاعت گزار مرد اور اطاعت گزار عورتيں اور سچے مرد اور سچي عورتيں اور اثر پذير دل رکھنے والے مرد اور اثر پذير دل رکھنے والي عورتيں اور روزہ دار مرد اور روزہ دار عورتيں اور اپني شرم گاہ کي حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والي عورتيں اور اللہ کو بہت ياد کرنے والے مرد اور ياد کرنے والي عورتيں، ان کے ليے اللہ نے مہيا کر رکھي ہے بخشش اور بڑا اجر و ثواب"-

چنانچہ يہ بات درست نہيں ہے کہ قرآن کا خطاب مردوں سے ہے اور صحيح يہي ہے کہ اس کا خطاب انسانوں اور لوگوں سے ہے اور بےشک انسانوں، مۆمنوں، اور مسلمانوں ميں مرد بھي شامل ہيں اور عورتيں بھي-

 

حوالہ جات:

4- سورہ آل عمران (3) آيت 5-

5- سورہ احزاب (33) آيت 35-

 

ترجمہ فرحت حسین مہدوی

 


متعلقہ تحریریں:

معاشرے ميں عورت کي صلاحيت

عورت کي معاشرے ميں اہميت