• صارفین کی تعداد :
  • 7425
  • 11/8/2013
  • تاريخ :

قرآن کا خطاب مَردوں سے کيوں ہے؟ 1

قرآن کا خطاب مَردوں سے کیوں ہے؟ 1

محاورے اور گفتگو کي زبان ميں "لوگ" کا لفظ مردوں کے لئے مختص نہيں ہے؛ کبھي کہتے ہيں "مرد"، کبھي کہتے ہيں "خواتين"، کبھي جب خطاب معاشرے سے ہوتا ہے تو خطاب مردوں اور خواتين سے ہوتا ہے اور اگر کہہ ديں کہ "مرد" تو يہ خطاب "عورتوں" کے مقابلے ميں ہوگا- دنيا کے مشرق و مغرب کي تمام ثقافتوں ميں محاورے کي زبان ميں جب "لوگوں" کي بات ہوتي ہے "لوگ" يوں ہيں، لوگوں نے جدوجہد کي، لوگوں نے انقلاب بپا کيا- جب کہتے ہيں کہ "لوگ"، يہ لفظ مردوں کے لئے مختص نہيں ہے- قرآن مجيد بھي تين روشوں بات خطاب کرتا ہے؛ کبھي خطاب عام معاشرہ ہے جہاں خطاب مذکر کے طور پر آئے گا جيسے "الذين"، "المۆمنون" وغيرہ اور کبھي خطاب مردوں سے ہے جہاں "الرجال" کا لفظ آتا ہے اور مردوں کا اختصاصي فريضہ بيان کيا جاتا ہے، کبھي "نساء" کا لفظ آتا ہے جہاں عورتوں کا اختصاصي فريضہ بيان کيا جاتا ہے-

محاورے کي زبان کا تعلق مردوں سے نہيں بلکہ لوگوں سے ہے اور قرآن کريم اسي محاورے کي زبان ميں بات کرتا ہے- کبھي اللہ کي ذات اقدس کي طرف سے خطاب آتا ہے کہ "مريم (سلام اللہ عليہا) اچھا نمونہ ہيں يا آسيہ اچھے لوگوں کا نمونہ ہيں:

{وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِّلَّذِينَ آمَنُوا اِمْرَأَةَ فِرْعَوْنَ} (1).

"اور اہل ايمان کے لحاظ سے اللہ نے مثال پيش کي ہے زوجہ فرعون کي"-

{ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلاً لِّلَّذِينَ كَفَرُوا اِمْرَأَةَ نُوحٍ وَاِمْرَأَةَ لُوطٍ} (2).

"کافروں کے لحاظ سے اللہ نے مثال پيش کي ہے نوح کي بيوي اور لوط کي بيوي کي"-

ائمہ طاہرين (عليہم السلام) اچھے انسانوں کے لئے نمونہ عمل ہيں اور معاشرے کے تمام افراد کو ان کي پيروي کرني چاہئے- سيدہ فاطمہ (سلام اللہ عليہا) بھي ايسي ہيں ہيں؛ اچھي خواتين کا نمونہ نہيں بلکہ اچھے انسانوں کي مثال ہيں- خداوند متعال نے مذکورہ آيت کريمہ ميں يہ نہيں فرمايا کہ فرعون کي زوجہ اچھي عورتوں کي مثال ہيں، يہ نہيں فرمايا کہ اچھي خواتين کا نمونہ حضرت مريم يا حضرت آسيہ ہيں- بلکہ فرمايا کہ يہ دونوں اچھے انسانوں کا نمونہ ہيں-

پس اچھا انسان دوسرے انسانوں کے لئے نمونہ ہيں چاہے مرد ہوں چاہے خواتين- خداوند ارشاد فرماتا ہے:

{مَنْ عَمِلَ صَالِحاً مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَى وَهُوَ مُۆْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً}- (3)

"جو نيک اعمال کرے خواہ مرد ہو يا عورت درآنحاليکہ وہ با ايمان ہو تو ہم اسے ايک پاک و پاکيزہ زندگي عطا کريں گے"-

 

حوالہ جات:

1- سورہ تحريم (66) آيت 11-

2- سورہ تحريم (66) آيت 10-

3- سورہ نحل (16) آيت 97-

 

ترجمہ : فرحت حسین مہدوی

 


متعلقہ تحریریں:

مغربي معاشرے کےبھيانک نتائج   

بےروزگاري اور مرد و زن