• صارفین کی تعداد :
  • 3700
  • 10/12/2013
  • تاريخ :

عقد کے ساتھ ہي ازدواجي احکام نافذالعمل

عقد کے ساتھ ہی ازدواجی احکام نافذالعمل

منگني اور عقد کے بعد کا عرصہ بھي تقريباً حقوق و فرائض کے لحاظ سے شادي کے بعد کے دور کي طرح ہے- اسلامي جمہوريہ ايران کے مدني قانون (سول لاء) کي دفعہ 1120 کے ميں قرار ديا گيا ہے کہ: "نکاح صحيح طريقے سے منعقد ہونے کے فوراً بعد فريقين کے درميان زوجيت کے حقوق وجود ميں آتے ہيں اور دوطرفہ حقوق اور فرائض برقرار ہوجاتے ہيں اور زوجين پر ان حقوق و فرائض کي رعايت واجب ہوتي ہے"-

جس طرح کہ زوجين کے حقوق ميں ايک دوسرے کي ارث اور ترکے ميں حصہ، شامل ہو اور اگر عقد نکاح کے بعد اور شادي و زفاف سے پہلے مياں يا بيوي فوت ہوجائے تو دوسرے کو اس کي ارث اور ترکے ميں حصہ ملے گا؛ اسي دور ميں تمکين (بيوي کي طرف سے زوجيت کا حق ادا کرنا) اور حق مہر (شوہر پر) واجب ہے، لہذا مدني قانون کي دفعہ 1082 اس بات پر تاکيد کي جاتي ہے کہ "عقد نکاح کے ساتھ ہي زوجہ مہر کي مالکن بن جاتي ہے اور جس طرح کہ چاہے اس ميں تصرف کرسکتي ہے"- اس دفعہ کے مطابق اگر ازدواجي رشتہ کسي وجہ سے مُنْحَلّ ہوجائے اور شادي انجام نہ پائے، مہر پھر بھي برقرار رہے گا- اسي ترتيب سے ہم ديکھتے ہيں کہ مياں اور بيوي عقد کے بعد اور شادي (دلہن کي رخصتي اور شوہر کے گھر سِدھارنے) سے قبل کے دور ميں، تقريباً وہي فرائض اور وہي حقوق رکھتے ہيں، جو شادي اور زفاف (سہاگ رات) کے بعد ان کے لئے قرار ديئے گئے ہيں- تا ہم "حق نفقہ" جيسے بعض حقوق کي شادي سے قبل ادائيگي، کے بارے ميں فقہاء کي آراء مختلف ہيں- اس اختلاف کي بنياد تمکين (حق زوجيت ادا کرنے ميں بيوي کي اطاعت) اور (شوہر کي طرف سے) نفقہ کے درميان رابطے کي کيفيت، ميں اختلاف، ہے جس کے بارے ميں دو نظريات پائے جاتے ہيں:

1- نفقہ کا تعلق عقد دائم سے ہے جو نشوز (حق زوجيت ميں نافرماني) کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے- بالفاظ ديگر نفقہ حق مہر کي طرح عقد جاري ہونے کے ساتھ ہي واجب ہوجاتا ہے اور تمکين (اطاعت) شرط نفقہ نہيں ہے اور صرف نشوز، نفقہ کي ادائيگي ميں رکاوٹ بنتا ہے-

 

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی