• صارفین کی تعداد :
  • 1262
  • 10/3/2013
  • تاريخ :

طالبان اور علاقائي  دہشتگردي

طالبان اور علاقائی  دہشتگردی

اسلام ، ظلم اور دہشتگردي کا مخالف (حصّہ اول)

اسلام ، ظلم اور دہشتگردي کا مخالف (حصّہ دوم)

طالبان  کے گروہ ميں جن لوگوں نے شموليت اختيار کي وہ  ايسے افراد پر مشتمل  تھے جو جغرافيائي  ، سياسي ، سماجي ، معاشرتي  اور  دنياوي علوم سے ناآشنا تھے -  ان افراد کا تعلق معاشرے  کے  پسماندہ طبقے سے تھا اور ان لوگوں نے  ايسے مذھبي مدارس ميں  ابتدائي تعليم حاصل کي جہاں پر  فرقہ وارانہ مذھبي تعليم  دي جاتي  تھي - ايسے افراد کو شروع سے ہي شدت پسندي کا ماحول ميسر آيا اور  بدقسمتي سے کم عمري کا فائدہ اٹھاتے ہوۓ  چالاک قسم کے لوگوں نے ان بچوں کو اپنے مفادات کے ليۓ استعمال کيا -

ملا محمد عمر نامي ايک 25 26 سال کا نوجوان طالبان کا کمانڈر تھا جس کا جہادي تجربہ ايک کلاشنکوف سے زيادہ نہ تھا لہذا اس کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرنے ميں امريکہ کو زيادہ دشواري کا سامنا کرنا نہيں پڑا-

امريکہ نے 9/11 کے مشکوک واقعے کے بعد طالبان کو اقتدار سے بے دخل کرديا اور ساري دنيا ميں ان کو پھيلاديا اور اب جہاں کہيں بھي ايک چھوٹا سا واقعہ رونما ہوتا ہے اس کا تعلق طالبان يا القاعدہ سے جوڑکر اسلام کو نشانہ بنايا جاتا ہے- حال حاضر ميں اسلام کي حقيقي تعليمات سے بے بہرہ کچھ  نام نہاد مفتي اپنے فتووں سے دہشت گردي کو جہاد قرار دے کر امريکہ کي معاونت کر رہے ہيں-

عالم اسلام خصوصا پاکستان کے تناظر ميں يہ بات سمجھنے کي ضرورت ہے کہ طالبان يا القاعدہ کسي فرد يا افراد کا نام نہيں ہے کہ ان سے مذاکرات کرکے دہشت گردي کو ختم کيا جاسکتا ہے- بلکہ ان کو اسلام دشمن طاقتوں کي اسٹراٹيجي سمجھ کر نمٹنے کي ضرورت ہے-

افغان طالبان، پاکستاني طالبان، ازبک طالبان، چچن طالبان، پنجابي طالبان اور اب يورپي طالبان کا نام بھي سنے ميں آرہا ہے- يہ سب طالبانزم کے ذيل ميں آتے ہيں کہ جن کا باعث و باني امريکہ ہے اور اس نظريئے سے نجات پانے کے لئے مذاکرات طالبان سے نہيں بلکہ امريکہ سے کرنے کي ضرورت ہے- شام کے مسائل کو ديکھتے ہوئے دنيا کو يہ سمجھ لينا چاہيے کہ يہ امريکہ ہے جو دہشت گردي کے خلاف جنگ کے نام پردہشت گردي کو فروغ دے رہا ہے-

البتہ سعودي عرب کي معاونت کے بغير امريکہ طالبانزم کو فروغ نہيں  دے سکتا لہذا  پاکستان کو اس معاملے ميں اپنے قومي مفادات اور ملي يکجہتي  کي خاطر رياض پر بھي دباۆ ڈالنا چاہيے- طالبان کے ساتھ يا باالفا ظ ديگر دہشت گردوں کے ساتھ جن کے ہاتھ کہنيوں تک بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگين ہيں، مذاکرات بے معني ہيں البتہ  پاکستان کے معصوم شہريوں کو طالبانزم سے بچانے اور ان کو اس گمراہ فکر سے دور رکھنے کے لئے قليل الميعاد اور طويل الميعاد منصوبہ بندي کي ضرورت ہے-

شعبۂ تحرير و پيشکش تبيان


متعلقہ تجریریں:

 مصر کے کشيدہ حالات