• صارفین کی تعداد :
  • 982
  • 10/2/2013
  • تاريخ :

طالبان کي صورت ميں دہشتگرد

طالبان کی صورت میں دہشتگرد

اسلام ، ظلم اور دہشتگردي کا مخالف(حصّہ اول) 

پاکستان اور  خطے کے دوسرے ممالک ميں  پچھلے چند سالوں ميں دہشتگردي کي ايک  ايسي لہر دوڑي ہے کہ  اس کي لپيٹ ميں  تقريبا پورا خطہ ہي آ چکا ہے - طالبان اور اس جيسے بہت سارے ايسے گروہ سامنے آ چکے ہيں جنہوں نے ظلم کي انتہا  کر دي ہے اور اسلام کے نام پر  ايسے ظالمانہ افعال انجام ديے جا رہے ہيں کہ ان کو  ديکھ کر انسانيت کانپ اٹھي ہے - يہ درندہ صفت لوگ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہيں اور کچھ دوسرے مسلمان نما لوگ ان کے ان کاموں کي توجيہ پيش کرتے ہيں- طالبان کے طرف دار بعض انتہائي معروف اور ديندار حضرات سے کہتے سنا ہے کہ يہ بم دھماکے اور خودکش حملے ردعمل ہے- عذر بدتر از گناہ کے مصداق يہ لوگ بتائيں کہ امريکي ڈرون حملوں، نيٹو کي بمباري اور پاکستاني فورسزکي کاروائي کا انتقام پاکستان کے عام شہريوں سے لينا کہاں کا انصاف ہے- گلوں ميں قرآن لٹکانے والے طالبان کس جواز کے تحت لوگوں کے گلے کاٹ رہے ہيں- 

طالبان کے بارے ميں يہ بات سب پر عياں ہوچکي ہے کہ طالبان کو بنانے والا امريکہ ہے اور امريکہ نے ہي اس کو پروان چڑھايا اور اپنے خاص مقاصد کے لئے ان سے فائدہ اٹھايا-ليکن يہ بات سمجھنے والي ہے کہ جس زمانے ميں طالبان کو وجود بخشا گيا اس وقت امريکہ، پاکستان، سعودي عرب اور بعض افغان جہادي قوتوں کے مفادات مشترک اور ايک تھے چنانچہ سب نے اپنے مفادات کے لئے اس نو ظہور يافتہ جماعت کو اپنے مفادات کي خاطر استعمال کيا-

طالبان کے نام پر افغانستان کي سرنوشت مسلط ہونے والے افراد بھي خود کو مکمل طور با اختيار اور ملک و ملت کا پاسباں تصور کرتے تھے ليکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ تضادات اور اختلافات کو ايک خاص مدت تک کے لئے تو نظر انداز کيا جاسکتا ہے ليکن طويل المعياد عرصے تک نظر انداز کرنے کے لئے ايک محکم اور مضبوط محرک کا ہونا ضروري ہے جس کا افغانستان کے تناظر ميں دور دور تک شائبہ تک نہ تھا-

پاکستان طالبان کے ذريعے افغانستان ميں  ہندوستان کے اثر رسوخ کو ختم کرنے، اپنے اثر رسوخ کو بڑھانے اور وسطي ايشيا کے ملکوں کے لئے اپنے سامان تجارت کے لۓ راستہ چاہتا تھا- سعودي عرب ايران کے اثرو رسوخ سے خوفزدہ تھا اور نہيں چاهتا تھا کہ افغانستان ميں ايران کے طرز کي انقلابي اور جمہوري حکومت تشکيل پائے- متحدہ عرب امارات، کويت، قطر اور ديگر رجعت پسند عرب ممالک اپني امريکہ نوازي کي روايات کو برقرار رکھتے ہوئے طالبان کي حمايت کرنے پر مجبور تھے- طالبان کو اپنے بے اختيار ہونے کا احساس اس وقت ہوا جب ان کو کابل کي بجائے قندھار ميں امارت اسلامي کا دارالخلافہ بنانا پڑا- ( جاري ہے )

 

متعلقہ تحریریں:

مصر کي تشويشناک صورتحال