• صارفین کی تعداد :
  • 2627
  • 9/12/2013
  • تاريخ :

اللہ کي نامحدود صفات کا ادراک

اللہ کی نامحدود صفات کا ادراک

بنيادي سوال يہ ہے کہ: کيا انسان کي عقل سمجھ سکتي ہے کہ اللہ تعالي کي ذات کن صفات کي مالک ہے؟ کونسي صفت اس ذات کے لائق ہے اور کونسي اس کے لائق نہيں ہے؟ انسان کي عقل اوصاف الہي کے ادراک پر قدرت کيوں نہيں رکھتي اور وہ جو بھي اس بارے ميں کہتا ہے يا تو اس کے تصورات ہيں يا احتمالات ہيں؟

انسان کي عقل، قادر ہے کہ اوصاف الٰہيہ کو سمجھ لے اور ان کا تجزيہ بھي کرے کيونکہ اگر ہماري عقل اللہ کي ذات کے لئے علم، قدرت اور حيات وغيرہ جيسے اوصاف ثابت کرسکتي ہے، يا موجودات عالم کو اس ذات سے مستند سمجھتي ہے يا اس ذات کے لئے ـ رحمت، مغفرت، رزق و انعام، ہدايت وغيرہ جيسي ـ فعلي صفات کے قائل ہوتي ہے؛ صرف اس لئے ہے کہ وہ اپنے وجود ميں بھي ان کمالات کا کوئي نمونہ، ديکھتي اور پاتي ہے- نيز چونکہ جو ذات کمال عطا کرتي ہے محال اور ناممکن ہے کہ وہ خود اس کمال سے خالي ہو؛ مخلوقات ميں اس طرح کے اوصاف کماليہ کي موجودگي اس بات کا ثبوت ہے کہ تمام موجودات کا اصلي مبدء و منشأ (يعني خداوند متعال) ان کمالات کا مالک ہے- ہم دعوي نہيں کرتے کہ عقل خداوند متعال کي ذات اور صفات کي حقيقت کا احاطہ کرسکتي ہے؛ بلکہ اعتراف کرتے ہيں کہ جو کچھ ہم اپني عقل کے ذريعے اس کے لئے ثابت اور بيان کرتے ہيں وہ اس چيز سے مختلف ہے جو اللہ کي ذات ميں ہے؛ مثلا وہ علم جو ہم خدا کے لئے ثابت کرتے ہيں اور اس علم سے اس کي توصيف کرتے ہيں، محدود ہے کيونکہ ہم خود محدود ہيں؛ جبکہ خدائے متعال اس سے کہيں زياد بڑا اور زيادہ برتر و بہتر ہے کہ کوئي حد اس کو اپنے اندر محدود کرسکے- يہ مفاہيم، محدود آئينے ہيں جو اللہ کے بےانتہا وجود کي عکاسي نہيں کرسکتے- ليکن اس کا يہ بھي مطلب نہيں ہے کہ ہم عقل کي تشخيص کو غيرمعتبر سمجھ بيٹھيں- ہماري عقل صفات کا ادراک کرنے اور انہيں سمجھنے پر قادر ہے ليکن اس سمجھ اور ادراک کي حدود انسان کي عقل تک ہي ہيں- انسان خداوند سبحان کي شناخت کے ميدان ميں اس شخص کي مانند ہے جو اپنے دو ہاتھ دريا کي طرف بڑھا کر اس ميں سے پينا چاہتا ہے؛ وہ صرف پاني پي کر سيراب ہونا چاہتا ہے اور اس کے لئے اس ميں موجود پاني زيادہ اہم نہيں ہے اور وہ اپنے دو ہتھيليوں کي مقدار سے زيادہ پاني نہيں اٹھا سکتا"- (1) يہي حال ہے اللہ کي ذات و صفات سے ہمارے ادراک کا-

 

حوالہ جات:

(1) سيد محمد حسين طباطبايى، مجموعه رسائل، ص 227.

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

شرک سے آلودہ عبادات کا قرآن ميں ذکر

شرک سے بچيں