• صارفین کی تعداد :
  • 4040
  • 9/26/2013
  • تاريخ :

وہابيت کے سائے ميں

وہابیت کے سائے میں  

تاريخ وہابيت کا مختصر جائزہ (حصّہ اوّل)

تاريخ وہابيت کا مختصر جائزہ (حصّہ دوم)

تاريخ وہابيت کا مختصر جائزہ (حصّہ سوم)

برطانوي سامراج نے آل الشيخ اور آل سعود خاندانوں کے درميان اتحاد قائم کيا اور جب انھوں نے پوري سرزمين عرب پر قبضہ کيا اور سعودي مملکت کي تاسيس ہوئي تو ديني امور محمد بن عبدالوہاب کے پسماندگان کے سپرد کئے گئے جنہيں آل الشيخ کہا جاتا ہے اور سياسي اور اور ملکي انتظام سعود بن عبدالعزيز کي اولاد کو سونپ ديا گيا جنہيں آل سعود کہا جاتا ہے- گذشتہ صدي عيسوي ميں جزيرہ نمائے عرب ميں تيل کے عظيم ذخائر دريافت اور اور آل سعود کو عظيم دولت ملنے کے بعد، وہابيوں نے عالم اسلام کي سطح پر اپنے افکار و عقائد کي ترويج کا فيصلہ کيا-

گذشتہ صدي عيسوي ميں جزيرہ نمائے عرب ميں تيل کے عظيم ذخائر دريافت اور اور آل سعود کو عظيم دولت ملنے کے بعد، وہابيوں نے عالم اسلام کي سطح پر اپنے افکار و عقائد کي ترويج کا کام شروع کيا-

نئي مملکت ميں وہابيت کو استحکام ملا اور علاقے ميں نئي رياستيں معرض وجود ميں آئيں تو وہابيوں نے تيل کي عظيم دولت کے بدولت اپني پاليسي تبديل کردي اور وقتي طور پر قتل و غارت کا سلسلہ بند کيا اور دولت کي طاقت سے ان ملکوں اور رياستوں ميں ثقافتي اور مذہبي اثر و رسوخ بڑھايا اور البتہ دوسرے ملکوں کے حجاج کرام کے ساتھ ان کي بدسلوکي ميں کوئي فرق نہيں آيا اور نہ ہي اسلام کے آثار قديمہ کے انہدام کے سلسلے ميں وہابي تفکر اور رويے ميں کوئي فرق آيا ہے- ہر سال پورے جزيرہ نمائے عرب ميں رسول اللہ (ص) کے زمانے کے آثار کم سے کم تر ہوتے جارہے ہيں اور وہابي مولوي سعودي گماشتوں کي مدد سے زائرين کو زيارت نہيں کرنے ديتے، ان پر شرک اور کفر کا الزام لگاتے ہيں اور يہ مسائل مدينہ منورہ ميں زيادہ ہي نظر آتے ہيں کيونکہ وہاں رسول اللہ (صلي اللہ عليہ و آلہ) کا حرم شريف ہے جس کي زيارت دنيا بھر کے مسلمانوں کي دلي آرزو ہوتي ہے اور جب وہاں پہنچتے ہيں تو انہيں وہابي نظر آتے ہيں جو ان پر رسول اللہ (ص) کي زيارت اور آپ (ص) سے توسل کي بنا پر کفر و شرک کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے- ان کا رويہ تمام غير وہابي اہل اسلام ـ بالخصوص شيعيان محمد و آل محمد (ص) ـ کے ساتھ نہايت غير انساني اور غير اسلامي ہوتا ہے- گويا ان کي منطق ہي تشدد اور تکفير ہے چنانچہ انہيں کفر و شرک کے فتووں اور مسلح سعودي فوجيوں اور پوليس والوں ـ بالخصوص بدنام زمانہ امر بالمعروف اور نہي عن المنکر کي يونٹوں کے افراد - کے تشدد کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور مزاحمت کي صورت ميں تفتيش، تھانے اور قاضي عدالت کا چکر لگانا پڑتا ہے- (جاری ہے)

 

ترجمہ: فرحت حسین مہدوی


متعلقہ تحریریں:

شيعوں کے صفات (حصّہ دوّم)

فروعي اور عملي مسائل ميں پيروي کي اجازت